سزا میں اضافہ کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت، آج کل یہ کون سا مشکل ہے : سپریم کورٹ
صدر کے آئینی اختیار کے بعد سزا میں اضافہ نہیں ہو سکتا:ریمارکس، عمرقید سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج آپ کے علاقہ میں تقریباً ہر شخص کے پاس اسلحہ، تلاشی لیں تو 70فیصد وکلا سے بھی برآمد ہو سکتا:وکیل سے غیر رسمی مکالمہ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)صدرِ مملکت کے آئینی اختیار کے بعد سزا میں اضافہ نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ نے عمر قید سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج کر دی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین صدر کو سزا میں کمی یا معافی دینے کا اختیار دیتا ہے اور یہ اختیار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں اضافہ کیلئے ٹھوس قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے ۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری کیسے دی جا سکتی ہے ۔ اگر اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی اور ریمارکس دیئے کہ ویسے بھی آج کل ترامیم کرنا کون سا مشکل کام ہے۔
عدالت نے وکیل سے غیر رسمی مکالمے میں کہا کہ آپ کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں تو تقریباً ہر شخص کے پاس اسلحہ ہوتا ہے ۔ اگر تلاشی لی جائے تو ستر فیصد وکلا سے بھی اسلحہ برآمد ہو سکتا ہے ۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم سزا مکمل کرنے کے بعد رہا ہو چکا ہے ۔ ژوب بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک پر پیش ہوئے ۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ سروس ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر دو سول اپیلوں پر محفوظ فیصلہ جاری کر دیا اور سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ کنٹریکٹ بنیادوں پر انجام دی گئی ملازمت پروموشن کیلئے مطلوبہ مدتِ ملازمت میں شمار نہیں کی جا سکتی۔ سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور متعلقہ قواعد کے تحت کنٹریکٹ ملازم "سول سرونٹ" کی تعریف سے خارج ہے ، کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سرکاری ملازمت کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ کنٹریکٹ ملازمت مخصوص مدت اور شرائط کے تحت ہوتی ہے ، اس سے مستقل تقرری یا ریگولرائزیشن کا حق پیدا نہیں ہوتا۔ سینارٹی اور پروموشن کا تعین ریگولر تقرری کی تاریخ سے ہوتا ہے اور کنٹریکٹ مدت اس مقصد کیلئے شامل نہیں کی جا سکتی۔