آبادی میں تیزترین اضافہ ،منصوبہ بندی کیلئے کوئی محکمہ نہیں
پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کامحکمہ ہیلتھ کیئر، وفاق میں محکمہ صحت میں ضم وزارت قومی صحت کا پاپولیشن ڈائریکٹوریٹ مانع حمل ادویات کی خریداری کریگا
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) ملکی آبادی میں اضافہ کی تیز ترین شرح 2 اعشاریہ 55 فیصد کے باوجود وفاقی سطح پر آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی پالیسی پر عمل کرنے کے لیے الگ وزارت و محکمہ موجود نہیں ہے ، وفاقی وزارت منصوبہ بندی کو تحلیل ہوئے 16 سال ہو گئے ہیں، پنجاب میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کے محکمہ کو پرائمری ہیلتھ کیئر محکمہ میں ضم کر دیا گیا ہے ، وفاق کے ماتحت خاندانی منصوبہ بندی کا محکمہ آٹھ سال قبل محکمہ صحت اسلام آباد میں ضم کر دیا گیا ہے ، وفاقی وزارت منصوبہ بندی کو اٹھارویں ترمیم کے تحت دسمبر 2010 میں تحلیل کر دیا گیا تھا اور پہلے کیڈ ڈویژن بعد ازیں وزارت قومی صحت میں ڈائریکٹوریٹ پاپولیشن پلاننگ قائم کر دیا گیا۔
وفاقی حکومت نے وفاق کی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی کے لیے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفس برقرار رکھا تھا تاہم 2019 میں مذکورہ آفس کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں ضم کر دیا گیا ہے ، وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی چیئرمین شپ میں پندرہ رکنی پاپولیشن کونسل کے قیام کے بعد ملکی آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے پالیسی سازی کے اختیارات وزارت منصوبہ بندی کی نگرانی میں چلے گئے ہیں، وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات پاپولیشن کونسل کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرے گی،جبکہ وفاقی حکومت کے نیشنل ایکشن پلان پاپولیشن و خاندانی منصوبہ بندی وزارت قومی صحت دیکھے گی ، وفاقی حکومت کے ماتحت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں خاندانی منصوبہ بندی اور ملکی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے وزارت قومی صحت کا پاپولیشن ڈائریکٹوریٹ مانع حمل ادویات کی خریداری کرے گا۔