بلو چستان:دہشتگردوں نے دکان میں بیٹھے5مزدور قتل کر دیئے
پانچوں افراد کاتعلق پنجاب سے ہے ،ذمہ داربچ نہیں سکتے :صدر ،وزیراعظم فورسز کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری، مزید7دہشتگرد ہلاک ،تعداد 109ہو گئی
کوئٹہ،اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی،اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے ضلع واشک میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5محنت کش قتل کر دیئے ۔ دوسری طرف پاک فوج، فرنٹیئر کور(ایف سی)اور بلوچستان پولیس کا صوبے میں دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن ’’شعبان‘‘کامیابی سے جاری ہے ، تازہ کارروائیوں میں مزید 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق ضلع واشک میں ایرانی سرحدسے ملحقہ علاقے ماشکیل کے بازار میں مسلح افراد نے حجام کی دکان پر بیٹھے مزدوروں پر فائرنگ کردی جس سے پنجاب کے رہائشی 5مزدور حسن ، عبدالقدیر ،محسن اور بلال وغیرہ دم توڑ گئے ۔ ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ کے مطابق واقعہ کے بعد حملہ آورفرار ہوگئے ، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیااور علاقے کوگھیرے میں لیکر ملزموں کی تلاش شروع کردی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے ، لاشیں جلد آبائی علاقوں کو روانہ کر دی جائینگی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جاں بحق پانچوں افراد حجام تھے اور مدتوں سے وہاں مقیم تھے ۔ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 5افراد کے قتل کی شدید مذمت کرتے کہا ہے کہ بیگناہ افرادپر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے جبکہ صدرمملکت ،وزیراعظم شہباز شریف ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اوروزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے المناک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیاہے ۔صدر آصف زرداری نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ معصوم شہریوں اور محنت کش مزدوروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہے ،دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔
وزیراعظم نے کہا نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانا سفاکانہ اور بزدلانہ فعل ہے ، حکومت و سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بے گناہ مزدوروں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے ۔ ادھر ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران سکیورٹی اداروں نے خفیہ اطلاعات پر مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں ۔پہلی کارروائی میں3 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جو مختلف سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ سران ٹنگی میں دوسری تازہ کارروائی کے دوران مزید 4 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ آپریشن شعبان کے آغاز سے ابتک ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 71 ہوچکی جبکہ 5 جولائی سے ابتک آپریشن شعبان اور دیگر آپریشنز میں مجموعی طور پر 109 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں،ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان جاری رہے گا اور فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ صدر زرداری ،وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرِداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں جاری آپریشن میں مزید دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو سراہا ہے ۔محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کیلئے پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں، قوم بہادر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ، دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔