حملے بند،امریکا اور ایران مذاکرات کیلئے تیار:پاکستان،قطر نے سفارتی کوششیں تیز کردیں،بات چیت کا آئندہ دور جنیوا دوحہ یا اسلام آباد میں ہونے کا امکان
حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں :ترجمان ایرانی فوج،عرب اتحادیوں کی دوری ،ہتھیاروں میں کمی کے باعث امریکا نے حملے بند کئے :امریکی میڈیا ٹرمپ نے مذاکرات کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ، حملوں کیلئے تیار ہیں ،ہتھیاروں کی کوئی کمی نہیں :امریکی سفیرمائیک والٹز ،حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
تہران،واشنگٹن،اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرانے کے لیے پاکستان اور قطر کی ایک بار پھر سفارتی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں ۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے مذاکرات کی بحالی سے متعلق پاکستان اور قطر کی پیش کردہ تجویز پر اپنے جوابات جمع کرا دئیے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر اپنی آمادگی سے بھی آگاہ کر دیا ہے ، جس سے سفارتی پیش رفت کی نئی امید پیدا ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کا آئندہ دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا، قطر کے دارالحکومت دوحہ یا اسلام آباد میں سے کسی ایک مقام پر منعقد ہونے کا امکان ہے ۔دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ امریکا نے اپنے حملے روکے ہیں تو ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں ۔ترجمان ایرانی فوج نے کہاامریکا سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے ۔
اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکز امریکی ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز تھے ، تاکہ امریکا کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے ۔اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل کرے ۔علاوہ ازیں ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں۔انہوں نے بتایا کہ مرمت کیے گئے دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دئیے گئے ہیں، جبکہ نئے آلات کو حال ہی میں فوج کے آپریشنل ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے ، جس سے ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے ۔جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ہم نے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔
جنگ بندی کا عرصہ ہماری دفاعی منصوبہ بندی، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں، ایک اچھا موقع ثابت ہوا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے ، تاہم امریکا خطے میں مزید کارروائیوں کے لیے تیار ہے ۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو کچھ گنجائش دے رہے ہیں، لیکن امریکی فوج مکمل طور پر تیار حالت میں موجود ہے ۔ انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے مزید فوجی وسائل خطے میں منتقل کیے جانے کی تصدیق کی۔ والٹز نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ امریکا ہتھیاروں کی کمی کے باعث گولہ بارود محدود کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے پاس کارروائی جاری رکھنے کے لیے درکار تمام وسائل موجود ہیں۔قبل ازیں امریکی میڈیا اداروں نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب بھی تمام آپشنز موجود ہیں۔وائٹ ہاؤس کے ڈائیریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا صدر ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو ٹرمپ اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امریکی حملوں سے ہونے والے نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان جرائم کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا جانا چاہیے ۔ انفراسٹرکچر پر حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے ۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے ۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے عمل میں تیزی لائی جائے اور نقل و حمل کے نظام کو مزید مضبوط، محفوظ اور مؤثر بنایا جائے ۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے اور اس نے خلاف ورزی کرنے والے 12 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا۔ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی فوج نے احکامات کی تعمیل نہ کرنے والے دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا اور ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دو جہازوں پر چڑھ کر تلاشی لی۔ایران کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ماحولیاتی خدمات اور ماحولیاتی نقصانات کی فیس وصول کرنے کے ضوابط تیار کر لیے گئے ہیں اور منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دئیے گئے ہیں۔ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے ہیں جس سے خلیج فارس میں آلودگی پھیلتی ہے ۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آلودگی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ہونا چاہیے ۔ ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے ، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا جائز ہے ۔ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے ۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے نائب وزرائے خارجہ نے جہاز رانی کے محفوظ راستوں اور خودمختاری کے احترام پر بات چیت کی۔ انہوں نے مذاکرات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی اور سیاسی مشاورت جاری ہے ۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔کویت نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ امریکا میں کویت کی سفیر شیخہ الزین الصباح نے امریکی اخبار کے اداریہ بورڈ کو ایک خط ارسال کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ کویت نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔کویتی سفیر نے اپنے خط میں کہا کہ نہ تو کویت نے اپنے لڑاکا طیارے ایران کے خلاف استعمال کیے اور نہ ہی اپنی سرزمین، فضائی حدود یا علاقائی سمندری حدود کو کسی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔یمنی حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے شمال مغربی علاقے میں سعودی عرب کا ایک ڈرون مار گرایا ہے ۔
حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع کے مطابق ترکیہ میں تیار کردہ مسلح جاسوس ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مبینہ طور پر دشمنانہ کارروائیوں میں مصروف تھا۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن کا آپشن زیر غور لا سکتا ہے ، اس ممکنہ کارروائی کو عسکری تاریخ کے پیچیدہ ترین آپریشنز میں شمار کیا جا رہا ہے ۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی سپیشل آپریشنز فورسز ایسے ممکنہ آپریشن کی تیاری کے مختلف پہلوؤ ں کا جائزہ لے رہی ہیں، جس کے تحت ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کو قبضے میں لے کر ملک سے باہر منتقل کیا جا سکے ۔رپورٹ کے مطابق بعض ماہرین نے اس مشن کو عسکری تاریخ کے سب سے پیچیدہ فوجی آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے ، کیوں کہ اس کے لیے ایرانی سرزمین کے اندر وسیع لاجسٹک انتظامات اور سخت سکیورٹی اقدامات درکار ہوں گے ۔سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز کا کہنا ہے کہ ایران کے موجودہ جوہری مواد سے نمٹنے کے لیے فوجی آپشن سب سے مؤثر راستہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
ان کے مطابق سفارتی مذاکرات میں تاحال تیز رفتار پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔رپورٹ میں ملٹری پلاننگ سے واقف ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جوہری تنصیبات کے گرد سکیورٹی فراہم کرنے ، رکاوٹیں اور دھماکا خیز مواد ہٹانے اور محفوظ راہداریاں قائم کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ اس کے بعد سپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں یورینیم تک رسائی حاصل کرکے اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہوگا۔ آبنائے ہرمز میں ایران کے مقررہ بحری راستے سے ہٹنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے کی خلاف ورزی کرنے والا ایک آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہوگیا۔ٹینکر ایران کی جانب سے مقرر کردہ نیویگیشن روٹ سے ہٹ گیا تھا، جس کے چند گھنٹے بعد وہ بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اس سے قبل متعدد بار خبردار کر چکا تھا کہ اگر کوئی بحری جہاز اس کے اعلان کردہ راستے سے انحراف کرے گا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار خود ہوگا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی حمایت کرتا ہے تو وہ ایک یقینی اور جائز ہدف بن جائے گا۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور خلیج فارس کے ممالک سمیت کوئی بھی ملک جو تنازع میں امریکا کی حمایت کرے گا، ایران کی نظر میں ایک جائز ہدف ہو گا۔محبی نے یہ بھی کہا کہ امریکی بمبار طیاروں نے حال ہی میں برطانیہ کے ایک فوجی اڈے کو استعمال کیا ہے ۔ امریکی گلوکارہ کیٹی پیری نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی فوجی حملوں کی ویڈیو میں ان کے گانے ’فائر ورک‘کے استعمال پر وہ حیران ہیں اور کراہت محسوس کر رہی ہیں۔ٹک ٹاک پر شائع کی گئی اس ویڈیو میں بم دھماکوں کی تصاویر کو گانے کے اس حصے کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے جس میں کیٹی پیری ’بوم، بوم، بوم‘ گاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ گانا اصل میں امید، شفا یابی اور اندرونی طاقت کے بارے میں ایک ترانے کے طور پر لکھا گیا تھا اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کا استعمال اس مفہوم کے منافی ہے جس کی یہ گانا نمائندگی کرتا ہے ۔اس سے قبل بھی متعدد گلوکار، جن میں اولیویا روڈریگو اور آریانا گرانڈے شامل ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی موسیقی کے استعمال پر اعتراض کر چکے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments