کالعدم ایکشن کمیٹی کے پیچھے بھارتی نیٹ ورک سرگرم ؟
دشمن ڈیجیٹل دہشتگردی سے پاکستانیوں اور کشمیریوں کو کنفیوژ کرنے کیلئے متحرک
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان اور ملکی اداروں کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا میں ملوث ملزم نے تحقیقاتی عمل میں بتایا کہ مذموم مہم کیلئے میڈیا ڈیجیٹل سروسز کو ادائیگیاں بھارت سے کی جاتی تھیں اور اسے ملنے والا مواد آزاد کشمیر میں سرگرم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے کیا جاتا تھا اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسایا جا رہا تھا۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ عسکری دہشتگردی کے ساتھ ڈیجیٹل دہشتگردی کے مقاصد کیا اور کون لوگ ملوث ہیں اور مذکورہ ڈیجیٹل دہشت گردی کا مقصد معاشرتی اضطراب، فیک نیوز اور جھوٹے پراپیگنڈا کے ذریعے ریاستی اداروں اور عوام کے مابین اعتماد کے رشتے کو کنفیوژن کا شکار بنانا ہے ۔جہاں تک وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی پریس کانفرنس کا تعلق ہے تو انہوں نے تو اس میں صرف ایک ملزم کی نشاندہی کی ،اس حوالہ سے حکومتی اداروں کے پاس بھی بہت سے شواہد ہیں کہ یہاں سوشل میڈیا پر ہزاروں اکاؤنٹس بھارت اور دیگر ملکوں سے کام کر رہے ، خود مختار کشمیر کے نام پر کشمیریوں کی پاکستان سے کمٹمنٹ کو کمزور کرنے کی سازش ہو رہی ہے ۔
اگر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف دشمن پا کستان کے افغان بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردی شروع کئے ہوئے ہے تو دوسری جانب ڈیجیٹل دہشتگردی سے پاکستان کے عوام اور کشمیریوں کو کنفیوژ کرنے پر لگا ہوا ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری حکومت اور ادارے سرگرم ورچوئل نیٹ ورک کا توڑ کر پا رہے ہیں ؟،جہاں تک کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے عزائم کا تعلق ہے تو بنیادی طور پر یہ عوام کے سلگتے مسائل کو بنیاد بنا کر سامنے آئی تھی لیکن بعد میں کمیٹی نے کشمیریوں کی مہاجر نشستوں کو بنیاد بنا کر پسپائی سے انکار کر دیا اور ا ب ایک ملزم کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر کے محاذ پر کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی۔ اب جب کشمیر میں انتخابی عمل ہونے جا رہا ہے تووہ کشمیری عوام کو آئین پاکستان کے تحت اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے کیلئے مہم چلا رہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی احتجاج انتخابی ماحول بدل سکتا ہے اور ٹرن آؤٹ بھی متاثر ہو سکتاہے لیکن انتخابی عمل متاثر نہیں ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments