مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کیلئے ناگزیر،وزیر بحری امور
ساحلی آبادیوں، بندرگاہوں، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار متعلقہ اداروں کو اپنے وعدے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہونگے ،عالمی دن پربیان
اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر بحری امورجنید انوار چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے مینگرووز جنگلات بحیرہ عرب کے ساحل کے تحفظ، ماہی گیری کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کے تحفظ و بحالی کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔وزارت بحری امور کی جانب سے عالمی یوم مینگرووز کے موقع پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے مینگرووز ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ ہیں، جن کی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ،وفاقی وزیر نے کہا پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا خشک آب و ہوا والا مینگرووز جنگل موجود ہے ، جو زیادہ تر سندھ کے انڈس ڈیلٹا میں پھیلا ہوا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی اس کے چھوٹے رقبے موجود ہیں،جنید انوار چودھری نے کہا مینگرووز ساحلی کٹاؤ، سیلاب اور طوفانی لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں جبکہ ساحلی آبادیوں، بندرگاہوں اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مینگرووز کی تباہی سے غذائی تحفظ اور ماہی گیر برادریوں کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جنگلات مچھلی، جھینگے ، کیکڑے اور دیگر آبی حیات کی افزائش اور پرورش کے قدرتی مراکز ہیں، جن پر ماہی گیری اور ابھرتی ہوئی آبی زراعت کا انحصار ہے ۔ انہوں نے کہا بلوچستان میں تقریباً 4058 ہیکٹر رقبے پر پھیلے مینگرووز بھی ملک کی کاربن مارکیٹ کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مینگرووز خشکی کے عام درختوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،انہوں نے بتایا کراچی پورٹ ٹرسٹ نے قابضین سے مینگرووز کے بعض علاقے واگزار کرائے ہیں جبکہ مائی کولاچی روڈ اور ملحقہ ساحلی علاقوں میں شجرکاری مہم شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار صفائی مہم بھی جاری ہے ،انہوں نے مینگرووز کے تحفظ کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنے ، تجاوزات کے خلاف قانون پر سختی سے عملدرآمد اور بلیو اکانومی کے منصوبوں میں سرکاری و نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے کہا عالمی یوم مینگرووز کے موقع پر تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کو اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments