سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر یمنی حوثیوں کے ڈرون حملے : عراقی گروہوں کی ریاض کو نشانہ بنانیکی کوشش ناکام
امریکا کو گولہ بارود کی کوئی کمی نہیں،وافر مقدار موجود،ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات ہورہے ہیں،اگر ناکام ہوئے تو انتہائی سخت فوجی کارروائی کاحکم دوں گا:ٹرمپ امریکا سے مذاکرات نہیں ہو رہے ،آبنائے ہر مز فی الحال بند :ایران،عراق اپنی سرزمین سے ہونے والے حملے بند کرائے :سعودی عرب،عالمی منڈی میں تیل4فیصد سستا
صنعاء (اے ایف پی، رائٹرز )یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے پیر کو کہا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے ڈرون حملوں کے جواب میں مملکت کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے کئے ہیں۔حوثیوں کے ملٹری ترجمان یحیی سریع نے بتایا کہ مشرقی سعودی عرب سے ینبع تک خام تیل کی فراہمی اور منتقلی سے متعلق متعدد حساس اہداف کو کئی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، انہوں نے اس ساحلی شہر (ینبع) کا حوالہ دیا جہاں خلیجی مملکت کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بحیرہ احمر تک پہنچتی ہے ۔ دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز بتایا کہ اس کی افواج نے عراق میں موجود ایران نواز گروہوں کی طرف سے تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کیلئے بھیجے گئے متعدد ڈرونز کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ان ڈرونز کے ذریعے ملک کے مشرقی علاقوں اور دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔سعودی عرب نے مطالبہ کیا کہ عراق اپنی سرزمین کو حملوں کیلئے استعمال ہونے سے روکے ۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن معاہدے کے امکانات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مثبت پیش رفت کا اچھا امکان موجود ہے ۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کافی صبر ہے اور دیکھنا ہوگا کہ آئندہ کیا ہوتا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو بتایا کہ ثالث ممالک نے سفارتی عمل کو موقع دینے کیلئے حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔
ان کے بقول امریکا ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے ، تاہم اگر نئی سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو واشنگٹن جنگ بندی سے قبل اختیار کی گئی فوجی حکمت عملی دوبارہ اپنائے گا،اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو انتہائی سخت فوجی کارروائی کا حکم دوں گا۔صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پانچ ماہ سے جاری جنگ کے باعث امریکا کے گولہ بارود کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود وافر مقدار میں موجود ہے اور درمیانے درجے کے ہتھیار بھی ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان حالیہ لڑائی میں وقفے کے باوجود، وہ فی الحال امریکا کے ساتھ کسی مذاکرات میں شامل نہیں ہے ۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ثالث خطے کی موجودہ صورتحال سے متعلق امریکا کی جانب سے ہمیں پیغامات پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت، ہم امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں مصروف نہیں ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں متعدد بحری جہازوں کو موڑ دیا ہے ، جن میں سے چھ کو پیر کے روز ہی موڑا گیا، جنہوں نے ایران کے مقرر کردہ راستے کے باہر سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی تھی۔پیر کے روز اسماعیل بقائی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے بارے میں عمان کے ساتھ حال ہی میں ہونے والی بات چیت کا واشنگٹن سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ آبی گزرگاہ فی الحال بند ہی رہے گی ۔مزید براں امریکا اور ایران کی جانب سے فائرنگ روکنے کے فیصلے سے خلیجی بحری جہاز رانی اور تیل کی صنعت کو بڑی راحت ملی، جس کے بعد بین الاقوامی معیار کے حامل برینٹ کروڈ کی قیمت 4 فیصد سے زائد کم ہو کر 87 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments