مریدکے : تباہ کن سیلاب، کئی دیہات زیر آب، سرکاری امداد نہ پہنچنے کی شکایات

مریدکے : تباہ کن سیلاب، کئی دیہات زیر آب، سرکاری امداد نہ پہنچنے کی شکایات

وفاقی وزیر رانا تنویر کا گاؤں بھی پانی کی زد میں ،سینکڑوں ایکڑفصلیں تباہ، 4 دن ہو چکے ، کوئی مدد کیلئے نہیں آیا:متاثرہ خاتون قلعہ ستار شاہ میں ریلوے ٹریک پل ٹوٹ گیا ، لاہور فیصل آباد ٹرین آپریشن معطل ، میلسی میں چھت گرنے سے بچی جاں بحق

 لاہور، شیخوپورہ،مریدکے ، میلسی (اپنے کامرس رپورٹر سے ،کرائم رپورٹر،دنیا نیوز ،اے ایف پی، نمائندگان دنیا)مون سون کی شدید بارشوں کے باعث تباہ کن سیلاب نے پنجاب کے متعدد دیہات کو ڈبو دیا ۔ شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے اور دیگر متاثرہ علاقوں کے رہائشی گھروں سے نکل کرپانی میں ڈوبے کھیتوں میں کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ۔ دوسری طرف میلسی میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر معصوم بچی جاں بحق ،5 افراد زخمی ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے ،فیروزوالا سے گزرنے والے نالہ ڈیک نے تباہی مچادی ،سیلابی پانی نے اردگرد کے دیہی علاقوں کی آبادیوں اور زرعی رقبوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

اے ایف پی کے مطابق مریدکے میں رضاکاروں کی چھوٹی موٹر بوٹس رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا رہی تھیں لیکن اس کے باوجود وہاں متعدد افراد پھنسے رہ گئے ہیں ۔اس حوالے سے 32 سالہ اقرا سلمان نے بتایا کہ 4 دن ہو چکے کوئی سرکاری ریسکیو ٹیم ہم تک نہیں پہنچی ،ہمارے پاس بجلی ہے نہ پینے کا صاف پانی، ہمارا کھانے پینے کا سامان بھی مکمل ختم ہو چکا ، ہم چاروں طرف سے سیلابی پانی میں گھِرے ہوئے ہیں ۔45 سالہ محمد رمضان نے بتایا کہ صبح سویرے اچانک پانی گھر میں داخل ہوا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا مکان گر گیا۔رضاکارانہ طور پر امدادی کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً ایک درجن دیہات سے لوگوں کو نکالنے اور ان کا سامان بچانے کیلئے امدادی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ رضاکار حارث ڈار کے مطابق چار ریسکیو بوٹس فعال طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں ، پھنسے لوگوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔

دریں اثناء محفوظ مقامات پر پہنچائے جانے کے بعد بھی رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ پانی کے وسیع سلسلے اور سڑک کے درمیان لگے چھوٹے چھوٹے خیموں میں حبس زدہ گرمی کے دوران سو رہے ہیں۔ جبکہ تحصیل فیروز والا میں نالے کا بند ٹوٹنے سے کئی علاقے زیر آب آ گئے ۔ مسن کالر ، موضع کاٹھیانوالہ سمیت دیگر درجنوں دیہات میں سینکڑوں ایکڑ مونجی کی فصل سیلابی پانی میں بہہ گئی ، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ کو بچانے کیلئے بند بنانے شروع کردئیے جبکہ ریسکیو ون ون ٹو ٹو نے پھنسے متاثرہ افرادکومحفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے 12ریلیف کیمپ قائم کردئیے ہیں ۔ گاؤں ہڈیالہ ورکاں سمیت کئی بستیاں زیرآب آ چکی ہیں ۔علاوہ ازیں سیلاب کی زد میں آکر شیخوپورہ لاہور سیکشن پرقلعہ ستار شاہ کے قریب ریلوے ٹریک پل ٹوٹ گیا جس کے باعث لاہور فیصل آباد سیکشن پر ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل ، متعدد ٹرینوں کے روٹس تبدیل جبکہ بعض ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔

ٹرانسپورٹ آفیسر ریلویز لاہور ڈویژن کا کہنا ہے کہ قراقرم ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس کو لاہور، فیصل آباد کی بجائے لاہور سے براستہ رائیونڈ، ساہیوال، خانیوال بھیجا جائے گا، بدر ایکسپریس اور غوری ایکسپریس کو کینسل کردیا گیا۔ این این آئی کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب نے تحصیل مریدکے میں 200 سے زائد دیہات میں تباہی مچا ئی، سیلابی پانی نئے ایئر پورٹ ،کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی ،کالاشاہ کاکو ہسپتال ، ایک نجی ہائوسنگ سوسائٹی اورگرلز ڈگری کالج میں داخل ہو گیا،وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور رکن قومی اسمبلی رانا احمد عتیق کا گاؤں بھی سیلاب کی زد میں آگیا، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نارووال روڈ پر تین عارضی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں ، تحصیل کامونکی میں بھی صورتحال ابتر ہے اورکئی علاقے سیلابی پانی میں گھرگئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ون ون ٹو ٹو ، مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق اورجماعت اسلامی کے کارکنان سیلاب زدگان کوکشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پرمنتقل کر رہے ہیں۔ دریں اثناء دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر درمیانے درجے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گدو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ۔ گدو اور سکھر بیراج پر پانی سطح بڑھنے کا خدشہ ہے ، دریائے چناب میں ہیڈ خانکی، قادرآباد اور تریموں پر بھی بدستور نچلے درجے کا سیلاب ہے ۔ وزیرآباد نالہ پلکھو میں اونچے درجے ، نارروال میں نالہ بسنتر میں نچلے درجے کاسیلاب ہے ۔ادھر دریائے چناب میں پانی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث ملتان کی تحصیل جلالپورپیروالا میں بیٹ مغل کا عوامی زمیندارہ بند ٹوٹنے سے 5 بستیاں زیرآب آگئیں اور مکینوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کر لی، سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں بھی زیرآب آگئیں۔

دوسری طرف میلسی کے نواحی علاقے بھٹہ عمر دین میں بارش کے باعث خستہ حال مکان کی چھت منہدم ہو گئی اور ملبے تلے دب کر 6 سالہ بچی انعم بی بی جاں بحق جبکہ 5 افراد60سالہ غلام مصطفی،50سالہ عزیز مائی،11سالہ علی زین،6سالہ ریحان علی اور5سالہ ایان علی شدید زخمی ہو گئے ۔زخمیوں کوٹی ایچ کیو ہسپتال میلسی منتقل کر دیا گیا ہے ۔اسی طرح لاہور کے علاقے شالیمار روڈ، غوثیہ چوک کے قریب خستہ حال کمرے کی چھت گر نے کے نتیجے میں35 سالہ شاہد، 35 سالہ زینب، 20 سالہ مجاہد اور 3 سالہ رجب زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو حکام کے مطابق 2 زخمیوں کو کوٹ خواجہ سعید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔سرکاری ڈیزاسٹر ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک پاکستان میں سیلاب سے مختلف واقعات میں 109 افراد جاں بحق ہو چکے ، ان اموات میں سے تقریباً ایک تہائی صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...