رواں سال پاکستان کے 12.2فیصد صارفین کوسائبر حملوں کا سامنا
ترکیہ میں 22.8، کینیا میں 21.2، قطر میں 19.3فیصد صارفین متاثر دفاعی اداروں کو بھی تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کیلئے تیار رہنا ہوگا ،کیسپرسکی
اسلام آباد(اسلم لُڑکا)عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم نے سال 2026کی پہلی ششماہی کے دوران سائبر خطرات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران آن لائن حملوں نے پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ خطے میں لاکھوں صارفین کو متاثر کیا۔متاثر ہونے والے صارفین کی شرح ترکیہ میں سب سے زیادہ 22.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ کینیا 21.2 فیصد اور قطر 19.3 فیصد کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
پاکستان میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 12.2 فیصد صارفین کو آن لائن خطرات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کیسپرسکی کے سکیورٹی حل نے ان حملوں کو کامیابی سے بلاک کر دیا ۔ سربراہ اینالیسس ٹیم سرگئی لوژکن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت 2026 کے دوران بھی سائبر خطرات کی نوعیت پر گہرا اثر ڈالتی رہے گی اس لیے دفاعی اداروں کو بھی تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ماہرین کے مطابق حملہ آور اب چوری شدہ ڈیٹا کو عام نیٹ ورک ٹریفک میں چھپانے کے لیے جائز کلاؤڈ اور فائل شیئرنگ سروسز استعمال کر رہے ہیں ۔کیسپرسکی نے سفارش کی ہے کہ ادارے مستقل بنیادوں پر کمزوریوں کی نشاندہی، بروقت سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، ملازمین کی سائبر آگاہی کی تربیت، تھریٹ انٹیلیجنس اور کیسپرسکی نیکسٹ جیسے جدید سکیورٹی حل استعمال کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments