خالد مقبول،مصطفی کمال گروپوں میں لڑائی،فائرنگ،متعدد زخمی:ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد کو تالے،رینجرز تعینات

خالد مقبول،مصطفی  کمال  گروپوں  میں  لڑائی،فائرنگ،متعدد زخمی:ایم  کیو ایم مرکز بہادر  آباد  کو  تالے،رینجرز  تعینات

ایک گروپ کے اجلاس کے دوران دوسرا بھی میٹنگ کیلئے پہنچ گیا،تلخ کلامی کے بعد فائرنگ،پتھرائو ،خوف وہراس،دکانیں بند انیس قائم خانی نے تھپڑ مارے ،ایم پی اے اعجاز الحق ، چلے تھے سندھ تقسیم کرنے گھر کو سنبھال نہ سکے :ترجمان سندھ حکومت

 کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال گروپ کے اختلافات شدت اختیار کر گئے ، بہادر آباد مرکز پر پارٹی کے اہم رہنماؤں اور کارکنوں کے دو گروپوں کے درمیان شدید جھگڑا اور  تصادم کا واقعہ پیش آیا۔ جھگڑے کے دوران کرسیاں چل گئیں، شدید فائرنگ اور پتھراؤ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ ہنگامہ آرائی کے بعد بہادر آباد مرکز کو تالے لگا دیے گئے ، جبکہ رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں ایک گروپ اجلاس کر رہا تھا کہ دوسرا گروپ بھی باہر پہنچ گیا۔ تلخ کلامی کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی، خوف و ہراس پھیل گیا، علاقے کی دکانیں بند ہو گئیں، پولیس موبائلز موقع پر پہنچ گئیں۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بھی لگائے ،تصادم کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں بہادر آباد مرکز کے ایڈمنسٹریٹر ذاکر حسین اور عامر بھی شامل ہیں، جبکہ رکن سندھ اسمبلی اعجاز الحق اور دیگر سینئر ارکان کو زدوکوب کیا گیا اور دھکے دیے گئے ۔ ایم پی اے اعجاز الحق نے بتایا کہ انیس قائم خانی نے مجھے کمرے میں تھپڑ مارے ، ذاکر حسین کو ایم پی اے فرحان انصاری و دیگر نے تشدد کر کے زخمی کیا۔ رہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بہادر آباد میں رہنماؤں کے درمیان پارٹی اجلاس کے بعد اختلافات ہوئے ۔ ایم پی اے اعجاز الحق اور رہنما ذاکر کے ساتھ دوسرے گروپ کے کارکنان نے ہاتھا پائی کی، منگلا شرما اور سبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔امین الحق نے کہا کہ فائرنگ سے ہمارا ایک کارکن زخمی ہوا، پتھراؤ سے بھی کارکن زخمی ہوئے ہیں، دفتر میں شدید توڑ پھوڑ کی گئی ہے ، اب یہ معاملہ مزید آگے چلنا ممکن نہیں ہے ۔ ادھر ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے طنزیہ انداز میں کہا کہ چلے تھے سندھ کو تقسیم کرنے مگر اپنے ہی گھر کو سنبھال نہ سکے ، جو دوسروں کو بانٹنے نکلے تھے ، آج خود دھڑوں میں بٹ چکے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...