کراچی میں بجلی چوری پر مقدمات، لاڑکانہ میں رعایت کیوں؟ سپریم کورٹ

کراچی میں بجلی چوری پر مقدمات، لاڑکانہ میں رعایت کیوں؟ سپریم کورٹ

ایک گھر بجلی چوری کرے تو کے الیکٹرک محلے کی بجلی بند کردیتی،لاڑکانہ میں نجی افراد کیسے بجلی فراہم کر رہے ، رقم کہاں جارہی؟ عدالت برہم ،ایم ڈی سیپکو کو انکوائری کا حکم ،کنڈوں سے بجلی دینے والوں کیخلاف مقدمات ہونے چاہئیں، جسٹس محمد علی مظہر

کراچی (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے لاڑکانہ میں غیر قانونی بجلی کی لائن گرنے سے شہری نور حسین کے زخمی ہونے کے مقدمے میں نجی افراد کے ذریعے بجلی کی فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ڈی سیپکو کو انکوائری کا حکم دے دیا جبکہ بجلی کی غیر قانونی سپلائی کے الزام میں نامزد ٹھیکیدار انور علی کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں بینچ نے لاڑکانہ میں غیر قانونی بجلی کی لائن گرنے سے شہری نور حسین کے زخمی ہونے کے معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کنڈوں کے ذریعے بجلی کی فراہمی اور بڑے پیمانے پر بجلی چوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ واقعے کے نو ماہ بعد مقدمہ درج کیا گیا جبکہ مقدمے میں نامزد سیپکو افسران کی ضمانت منسوخی کے لیے کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پورے علاقے میں کنڈوں کے ذریعے بجلی کی فراہمی کا نظام مبینہ طور پر ٹھیکیدار انور علی چلاتا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ انتہائی سنگین انتظامی صورتحال ہے کہ بجلی میٹروں کے بجائے کنڈوں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سیپکو قانون کے مطابق غیر قانونی بجلی کی فراہمی اور بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرے جبکہ عدالتی حکم نامہ متعلقہ حکام کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے سیپکو کو انکوائری کی ہدایت پر اعتراض کیا گیا، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم نے آپ کے خلاف انکوائری یا مقدمے کا حکم نہیں دیا بلکہ اتنے بڑے پیمانے پر بجلی چوری پر سیپکو کے سربراہ کو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے ۔

عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ کراچی میں بجلی چوری پر مقدمات درج ہوتے ہیں، آخر لاڑکانہ میں ایسی رعایت کیوں دی جا رہی ہے ۔ کراچی میں اگر ایک گھر بھی بجلی چوری کرے تو کے الیکٹرک پورے محلے کی بجلی بند کر دیتی ہے ، لیکن لاڑکانہ میں نجی افراد کیسے بجلی فراہم کر رہے ہیں اور اس کی رقم کہاں جا رہی ہے ؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نجی افراد کے ذریعے بجلی کی فراہمی نہ صرف شہریوں بلکہ ریاست کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ پورے علاقے میں اسی طریقے سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور کنڈوں کے عوض رقم ٹھیکیدار کو ادا کی جاتی ہے ۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ بجلی چوری کا مالی بوجھ بالآخر ان صارفین پر پڑتا ہے جو باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے مزید ریمارکس دیئے کہ کنڈوں کے ذریعے بجلی فراہم کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اب تک بجلی چوری کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی، جن افراد کے پاس بجلی کے میٹر موجود نہیں انہیں بجلی کیسے فراہم کی جا رہی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ سیپکو کو خود بجلی چوری کے خلاف مقدمات درج کرنے چاہئیں تھے ، ٹھیکیدار بجلی فروخت کر رہے ہیں، عوام اسے خرید رہی ہے اور اس کا نقصان ریاست کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے نجی افراد کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے معاملے پر ایم ڈی سیپکو کو انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ٹھیکیدار انور علی کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...