سیاسی اتفاق رائے کے بغیر دہشتگردی کیخلاف کامیابی مشکل، عطا تارڑ
بیرونی عناصر نے منفی بیانیہ تشکیل دیا، ریاست مخالف ذہن سازی کا مقابلہ کرنا ہوگا دہشتگردوں ،سہولت کاروں سے مذاکرات نے امن کوششوں کو نقصان پہنچایا ، خطاب
اسلام آباد (دنیا نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سیاسی اتفاق رائے کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مستقل کامیابی مشکل ہے ، تمام سیاسی جماعتوں کو انسداد دہشتگردی پالیسی پر اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مذاکرات اور انہیں دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔اسلام آباد میں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2017 میں دہشتگردی پر قابو پایا گیا، جس سے ملک میں امن بحال اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم، افواج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگرد نرم اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، امام بارگاہوں، بچوں کی بسوں اور ٹرینوں پر حملے اس کی مثال ہیں۔ دہشتگردی میں اضافے کی ایک وجہ پالیسی کا ریورسل اور بیرونی مداخلت ہے ، جس کے شواہد موجود ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارتی مداخلت کا عملی ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی عناصر تخریب کاری کے ساتھ منفی بیانیہ اور ریاست مخالف ذہن سازی بھی کر رہے ہیں، جس کا مقابلہ وفاق اور صوبوں کو مل کر کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل محاذ پر سائبر سکیورٹی اور کاؤنٹر ٹیررزم کو مؤثر بنانے کے لیے قانونی فریم ورک مزید بہتر کیا جا رہا ہے ۔ ریاستی بیانیے کو مضبوط بنانے اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں ۔عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں سے دنیا میں ملک کا وقار مزید بلند ہوا اور پاکستان کو عالمی سطح پر عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ، سفارتی کامیابیوں کو مزید مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، جبکہ بیانیے کی طاقت اور سافٹ پاور کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا تک پہنچایا جا رہا ہے ۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ انسداد پرتشدد انتہاپسندی کے لیے پی آئی ڈی میں خصوصی سیل قائم کیا گیا جبکہ دہشتگردی کے خلاف ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں ،دہشتگردی کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا، اس کا مقصد تشدد کے ذریعے اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا ہے ، پاکستان بزرگوں کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور ملک کی بقا و استحکام کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments