پیپلز پارٹی وفد کی اچکزئی سے ملاقات:اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کا ایک پیج ہوسکتا مگر دال میں کچھ کالا،آج یاکل سامنے آجائیگا:بلاول
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ خوش آئند ،محسن نقوی نا تجربہ کار، وہ موجودہ نظام کی بات کررہے تو الٹی گنتی والا بیان درست سمجھیں:چیئرمین پی پی ،حکومت چند دن کی مہمان: اپوزیشن لیڈر سپیکرقومی اسمبلی سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات، عمران ڈیل نہیں کررہے ،عدالتی فیصلہ تسلیم کیا جائے :اسدقیصر، بیرسٹرگوہر، عمران کو ہسپتال منتقل نہ کیا تو توہین عدالت ہو گی:سلمان اکرم
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوزایجنسیاں،دنیا نیوز )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں نیشنل اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین بھی موجود تھے جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور ندیم افضل چن موجود تھے ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پارلیمان میں حزب اختلاف کے قائدین کے درمیان پارلیمانی امور اور ملکی سیاست پر تبادلہ خیال ہوا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان میں حزب اختلاف کے قائدین سے درخواست کی کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہوکر فعال کردار ادا کریں، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرینگے جبکہ پیپلزپارٹی اور قائدین حزب اختلاف نے پارلیمان میں قانون سازی کے حوالے سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان میں حزب اختلاف کے قائدین سے کہا کہ آپ انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں۔بلاول بھٹو نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور علاج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جمہوری روایت ہے ۔ بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حکومت قدم اٹھاتی ، انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کاایک پیج ہوسکتاہے ،لیکن ان کے درمیان دال میں کچھ کالا ہے جو آج نہیں تو کل سامنے آجائے گا۔ نئے صوبوں سے متعلق سوال پر کہا کہ پی پی پی عوام اور عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی اور جو قدم عوامی اتفاق رائے سے کیا جائے گا پی پی پی اس کا ساتھ دے گی، ہم نے زور زبردستی سے کسی چیز کو پہلے مانا ہے نہ آج مانیں گے اور نہ آئندہ مانیں گے ۔ اگر حکومت کانفیڈنٹ ہے کہ پی پی پی کی ضرورت نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
وزیر اعظم کے گرد ایسے لوگ ہیں جو ان کی کو ششوں کو ناکام بنا دیتے ہیں اگر قانون سازی کے لئے حکومت کے پاس ارکان پورے ہیں تو‘‘والد‘‘صاحب کو منا لیں پھر دستخط ہونگے ،پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ ملک معاشی اور سیاسی طور پر کامیاب ہو۔ اسرائیل اور بھارت جیسی قوتیں \\\"آپریشن سندور\\\" جیسے منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ ہمیں ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی، بہتر خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں، میں چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے ، اپوزیشن کا پارلیمنٹ سے دور رہنے کا فیصلہ سیاسی طور پر بھی درست نہیں اور جمہوری روایات کے بھی خلاف ہے ۔ کشمیر جیسا حساس علاقہ تھا یہاں غیر متنازعہ الیکشن ہونا چاہیے تھا، ابھی متعدد حلقوں میں انتخابات ہونے ہیں، متنازعہ الیکشن کے بعد متنازعہ حکومت چاہیے تو مسلم لیگ (ن) کو مبارک ہو، مجھے وہ موقع نظر نہیں آتا کہ ہم وہاں جمہوری روایات اور کشمیر کے پارلیمان کو مضبوط کریں۔ میری پارٹی کا فیصلہ ہے مسلم لیگ (ن)کے ساتھ کوآرڈینیشن اور قانون سازی میں تعاون نہیں ہوگا جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں ہونگے ، اگر ایسا کوئی قانون آئے جو قومی مفاد کا ہوگا اس کا ساتھ دیں گے ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کوئی موقف نہیں دیا تھا بلکہ فقط ایک سوال کا جواب دیا تھا، صوبوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مو قف بالکل واضح ہے کہ اتفاق رائے ہو تو صوبہ بنایا جائے ، بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ سندھ سے صوبے بننے کی کتنی قراردادیں منظور ہوئیں، اس کا جواب دینا چاہیے ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں قراردادیں منظور ہوئی ہیں، جس کا ہم احترام کرتے ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کی کیسے مخالفت کی جائے ۔حکومت کی جانب سے اگر رابطہ کیا گیا تو ضرور بات چیت کریں گے ، مگر جب تک پیپلز پارٹی کو انصاف نہیں ملتا اس وقت تک حکومت کے ساتھ تعاون نہیں ہوگا، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ نظام ناکارہ ہونا کافی بھاری لفظ ہے ، محسن نقوی سیاست میں اتنا تجربہ نہیں رکھتے ، اگر وہ موجودہ نظام کی بات کررہے ہیں کہ کلیپس تو پھر میرے الٹی گنتی والے بیان کو درست سمجھیں۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا حکومت چند دن کی مہمان ہے ،نظام کی بجائے چہرے بدلنے سے پاکستان یہاں تک پہنچا،ایک قومی حکومت بنائی جائے جو الیکشن کرائے ۔ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی اور رشتہ داروں کی ملاقات ان کا حق ہے ، نظام کی بجائے چہرے بدلنے سے پاکستان یہاں تک پہنچا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کوئی ڈیل نہیں کررہے ، میری درخواست ہے عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے آرڈر پرعملدرآمد ہونے دیا جائے ، بڑی مشکل اور طویل عرصے بعد ہم اس فیصلے پر پہنچے ہیں، میں دونوں فریقین سے کہوں گا کہ اس عمل کو سبوتاژ نہ کریں ۔ ادھر سپیکر پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی ایاز صادق سے تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی معاملات پر مشاورت کی گئی ۔ ملاقات میں اسد قیصر، جنید اکبر اور دیگر موجود تھے ، سابق سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر بھی سپیکر چیمبر میں پہنچے ، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کیلئے ہم سپیکر سے ملے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مِن و عن تسلیم کیا جائے ۔ اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف کے بیانات پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ کیا اعظم نذیر بھول گئے ہیں کہ نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کے لیے درخواست دی اور کتنی دفعہ علاج کروایا؟ ۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر پر حکومت کے پاس آج تک کا وقت ہے ، اگر عمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو توہین عدالت ہوگی۔ مجھے نظر نہیں آتا، حکومت کی نظرثانی درخواست ابھی سنی جائے گی کیونکہ سپریم کورٹ میں کوئی درخواست دائر کی جاتی ہے تو پڑتال میں چار چھ دن لگ جاتے ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments