عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر تحریک انصاف کی سپریم کورٹ میں توہین عدالت درخواست : عدالتی حکم پر عمل کیا، خلاف ورزی پی ٹی آئی نے کی : وزیر اطلاعات
وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ،چیف کمشنر اسلام آباد ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل توہین عدالت درخواست میں فریق، ڈائری نمبر الاٹ حکومت کی بھی نظرثانی پر جلد سماعت کیلئے درخواست،علاج سے کبھی نہیں روکا،تمام قیدیوں کیلئے یکساں سہولیات کا نکتہ اٹھایا،چند وکلا نے بار کو سیاست کی نذر کرنیکی کوشش کی:عطا تارڑ
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ،چیف کمشنر اسلام آباد ،اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکردی ،جسے باقاعدہ طور پر ڈائری نمبر بھی الاٹ کر دیا گیا ہے ۔جبکہ وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا انتظامیہ نے عدالت عظمیٰ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا ،تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ، پی ٹی آئی نے روڑے اٹکا کر خلاف ورزی کی۔پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجا اور عزیز بھنڈاری کی دائر کردہ درخواست کے مطابق سپریم کورٹ نے 18 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالتی حکم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے کرنا تھا ،جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی پی ٹی آئی کی ایک بہن کو طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔عدالتی حکم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے علاج اور شفا انٹر نیشنل ہسپتال میں طبی سہولیات کے اخراجات ان کے اہلخانہ نے برداشت کرنے تھے جبکہ ہسپتال میں قیام کے دوران سکیورٹی کے انتظامات کی ذمہ داری متعلقہ حکام کو سونپی گئی تھی۔ عدالت نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے مکمل طبی معائنے اور علاج کی رپورٹس آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔درخواست کے مطابق وفاقی حکومت نے ابتدا میں عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم وفاقی وزیر قانون نے بعد ازاں عدالتی حکم پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کا عندیہ دیا۔
19 اگست کو عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی گئی، جسے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے بعد واپس لے کر دوبارہ دائر کیا گیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی، ان کی بہن اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو الگ الگ گاڑیوں میں سخت سکیورٹی کے ساتھ لے جایا گیا، تاہم بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہن کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال پہنچایا گیا جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو الگ قافلے کے ذریعے شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا گیا۔درخواست کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان کو شفا ہسپتال میں تقریباً ساڑھے چار بجے تک بانی پی ٹی آئی کا انتظار کروایا گیا۔ پمز ہسپتال میں بھی بانی پی ٹی آئی کا عدالتی حکم کے مطابق مکمل طبی معائنہ نہیں کیا گیا، صرف آنکھوں کا معمولی معائنہ، آنکھ میں انجیکشن اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا۔21 اگست کی صبح بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں دوبارہ ان کے سیل منتقل کردیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو پمز منتقل کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق شفا ہسپتال کے راستے اور باہر مبینہ سکیورٹی صورتحال کے باعث بانی پی ٹی آئی کو پمز منتقل کیا گیا۔تحریک انصاف نے استدعا کی ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ،بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل اور ان کا طبی معائنہ کرایا جائے ،نیز حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے عدالتی افسر کی تعیناتی یا لوکل کمیشن مقرر کیا جائے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تحریک انصاف کی طرف سے بے بنیاد توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی، انہوں نے کہا عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کے حوالے سے انتظامیہ نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا ،تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ،اور حقائق لمحہ بہ لمحہ قوم کے سامنے رکھے۔
اس ضمن میں تمام اقدامات شفاف انداز میں کیے گئے ، معائنے کے وقت ان کی ہمشیرہ بھی موجود تھیں جبکہ پی ٹی آئی روڑے اٹکا کر توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے ، تحریک انصاف اس معاملے پر جھوٹا پراپیگنڈا کر رہی ہے ،شفا ہسپتال کے باہر لوگوں کو جمع کیا گیا اور پریس کانفرنس کے ذریعے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی،عدالت کے واضح احکامات تھے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ، تاہم تحریک انصاف، عمران خان کی بہن اور پارٹی قیادت نے ان احکامات کی خلاف ورزی کی،ہسپتال کے باہر ہجوم جمع کیا گیا، خطرہ پیدا کیا گیا، بیریئر ہٹائے گئے ، ٹک ٹاک بنائی گئی اور یہ سب پی ٹی آئی کر رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کی طرف سے ایک بے بنیاد توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی گئی، عدالت نے کہا تھا کہ سیاسی بیان بازی نہیں کی جائے گی مگر انہوں نے اس پر سیاست کی،پی ٹی آئی اس معاملے پر سیاست کر کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے نظر ثانی اپیل میں تمام قیدیوں کیلئے یکساں سہولیات کا نکتہ اٹھایا تھا اور بانی پی ٹی آئی کا علاج کبھی نہیں روکا گیا، جب یہ وزیراعظم تھے تو اپنے مخالفین سے متعلق تضحیک آمیز بات کرتے تھے ، نظر ثانی میں مؤدبانہ طریقے سے پوچھا گیا کیا یہ سہولت ہر قیدی کو میسر ہے ، عدالتی حکم کے مطابق تمام لوازمات پورے کیے گئے ۔وزیر اطلاعات نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسل نے تحریکِ انصاف کے سیاسی مؤقف سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی رکن کا انفرادی بیان کونسلوں کا سرکاری مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔انہوں نے کہا چند وکلا نے بار کو بھی سیاست کی نذر کرنے کی کوشش کی۔دریں اثنا اسلام آباد انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے 18اگست کے حکم کے خلاف نظر ثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائرکردی۔
چیف کمشنر اسلام آباد نے دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظر ثانی درخواست کی جلد سماعت کی جائے ، نظر ثانی پٹیشن میں 18 اگست کے عدالتی حکم پر نظرثانی، ترمیم اور اسے واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے ۔درخواست میں بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے نجی ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل پینل کے ذریعے طبی معائنے و علاج کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ صرف طبی سہولیات کا نہیں بلکہ قانونی و آئینی دائرہ اختیار سے متعلق بھی ہے ۔درخواست میں آرٹیکل 175(2) اور جیل قوانین سے متعلق بھی قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم وقت کی پابندی پر مبنی تھا، اس لیے معاملے کی فوری سماعت ضروری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments