کسٹمز ایکٹ میں ترمیم ، عدالتی کیسز کی جانچ کیلئے آزاد کمیٹیاں تشکیل
کمیٹیوں کی منظوری کے بغیر ہائیکورٹ ریفرنس، سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں ہوگی ریٹائرڈ جج کمیٹیوں کی سربراہی کریں گے ، مقدمات پر فیصلہ پندرہ دن کے اندر کرنا لازمی ہوگا
اسلام آباد (ایس ایم زمان) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز ایکٹ 2001 میں ترمیم کر دی جس کے تحت عدالتوں میں دائر کیے جانے والے ریفرنسز اور درخواستوں کی جانچ کے لیے آزاد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسٹمز رولز 2001 میں ترمیم کی ہے ۔ نئے قواعد کے تحت ‘‘انڈیپنڈنٹ کیس سکروٹنی کمیٹی رولز’’ شامل کیے گئے ہیں جو فوری طور پر نافذالعمل ہوں گے ۔نئے قواعد کے مطابق ایف بی آر ملک بھر کے لیے چار کمیٹیاں تشکیل دے گا جو اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے کیسز کا جائزہ لیں گی۔ ہر کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت یا کسی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کریں گے جبکہ اراکین میں کسٹمز، ٹیکس اور کمرشل قوانین میں کم از کم 15 سال کا تجربہ رکھنے والے وکیل اور کسٹمز سروس کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسر شامل ہوں گے ۔ایف بی آر کو موزوں امیدواروں کی تلاش کے لیے الگ سرچ کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا جس کی ساخت اور طریقہ کار ایف بی آر طے کرے گا۔ قواعد کے تحت ہائی کورٹ میں ریفرنس یا سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کرنے سے پہلے متعلقہ کمیٹی کی جانچ اور منظوری کی سفارش لازمی قرار دی گئی ہے۔
مقدمات کی ریفرل اور کمیٹیوں کی سفارشات کا عمل بنیادی طور پر ویب او سی پورٹل کے ذریعے چلایا جائے گا، تاہم ممبر (لیگل اینڈ اکاؤنٹنگ-کسٹمز) کی ہدایت پر دستی طریقہ کار بھی اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ رکن کو تحریری وجوہات کی بنیاد پر کسی مقدمے کا دائرہ اختیار ایک کمیٹی سے دوسری کمیٹی کو منتقل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔کمیٹیوں کو 15 دن کے اندر مقدمے پر فیصلہ دینا ہوگا تاہم غیرمعمولی حالات میں یہ مدت مزید 10 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اگر مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہو سکے تو کیس ازخود عدالت میں فائلنگ کے لیے منظور تصور کیا جائے گا۔ ہنگامی نوعیت کے مقدمات میں چیئرپرسن کو فاسٹ ٹریک منظوری کا اختیار بھی دیا گیا ہے ، جسے بعدازاں 30 دن کے اندر کمیٹی کے سامنے نظرثانی کے لیے پیش کیا جائے گا۔نئے نظام کے تحت کمیٹیوں کی کارروائی خفیہ رکھی جائے گی اور مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ رکن کو کارروائی سے خود کو علیحدہ کرنا ہوگا۔ کمیٹیوں کے فیصلے اکثریتی رائے سے ہوں گے اور کورم کے لیے چیئرپرسن سمیت تین اراکین کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے ، جبکہ اختلافی رائے رکھنے والے رکن کا مؤقف بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
کمیٹی کو کسی بھی دفتر یا فیلڈ فارمیشن سے ریکارڈ، بریف یا وضاحت طلب کرنے کا اختیار ہوگا۔ اگر کمیٹی کسی مقدمے کو واپس لینے یا آگے نہ بڑھانے کی سفارش کرے تو سیکرٹری فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کرے گا۔قواعد میں کمیٹی اراکین کے معاوضے کا تعین بھی کیا گیا ہے ، جس کے مطابق چیئرپرسن کو ماہانہ 12 لاکھ روپے جبکہ وکیل اور ریٹائرڈ کسٹمز رکن کو 8،8 لاکھ روپے ماہانہ فیس کے علاوہ فی کیس اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم یہ تعداد ماہانہ 20 مقدمات تک محدود رکھی گئی ہے ۔کمیٹیوں کے اراکین کی مدت ملازمت ایک سال ہوگی، جسے کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال کے لیے توسیع دی جا سکے گی۔ چیئرپرسن یا رکن 30 دن کے نوٹس پر استعفیٰ دے سکتا ہے ، جبکہ بدعنوانی، مفادات کے ٹکراؤ یا بدانتظامی ثابت ہونے کی صورت میں ایف بی آر متعلقہ رکن کو سماعت کا موقع دینے کے بعد برطرف کر سکتا ہے ۔قواعد کے تحت ہر کمیٹی 31 مارچ تک بورڈ کو سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی جس میں نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد، نتائج، کامیابی کی شرح، محصولات پر اثرات اور قانون سازی یا انتظامی بہتری کے لیے تجاویز شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ ہر سال خفیہ معلومات کو مخفی رکھتے ہوئے کمیٹیوں کی سفارشات کا خلاصہ بھی شائع کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments