14 بچوں کی اموات : استعفوں کے مطالبات ، جواب میں تقریریں: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرار دادیں منظور نظام گل سڑ چکا ، روزانہ 1300 بچے مر رہے ، آئیں ملکر ان کو بچائیں : وزیر صحت

 14 بچوں کی اموات : استعفوں کے مطالبات ، جواب میں تقریریں: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرار دادیں  منظور نظام گل سڑ چکا ، روزانہ 1300 بچے مر رہے ، آئیں ملکر ان کو بچائیں : وزیر صحت

بچوں کی مائیں رو رہی ہیں،بتایا جائے عملہ کہاں تھا ؟ شیری رحمن، لاشیں شاپنگ بیگز میں والدین کے حوالے کی گئیں،خاموش رہنے کا کہا گیا:فلک ناز چترالی ،حکومتی ارکان کا احتجاج یہ حادثہ نہیں،قتل:ناصر عباس،حکومتی کمیٹیوں پر اعتماد نہیں:علی ظفر،حکومت رنجیدہ اور سنجیدہ بھی:اعظم تارڑ، کوئی کتنا طرم خان ہو بچے گا نہیں:مصطفی کمال،سینیٹ میں تقریریں شہباز سپیڈ بے نقاب:اسد قیصر،انکوائری شفاف ہونی چاہئے :بیرسٹر گوہر ، اب تک معلوم نہیں آگ لگی کیسے ؟:راجہ پرویز، تلافی ناممکن :خواجہ آصف ،دونوں ایوانوں کی سپیشل کمیٹی کی تجویز منظور

اسلام آباد(نامہ نگار، سٹاف رپورٹر،اپنے رپورٹرسے ،نیوز ایجنسیاں )سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر بحث ہوئی ، ارکان نے واقعے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک پیش کی جسے منظور کرلیا گیا ، کمیٹی میں اپوزیشن کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ، دونوں ایوانوں نے سا نحہ کی تحقیقات کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک منظور کرلی ، قومی اسمبلی نے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے متفقہ قرارداد بھی منظور کی ،سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ آفیسر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت ہوا۔ قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کی درخواست پر معمول کی کارروائی اور وقفہ سوالات معطل کرکے پمز سا نحہ پر بحث کی گئی ، سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ کی ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر نمائندگی ہو اور سربراہی اپوزیشن کے پاس ہو ، انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو اعتماد نہیں، شیری ر حمن نے کہا کہ 14 بچوں کی مائیں رو رہی ہیں، ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے اور واقعے کے وقت عملہ موجود نہیں تھا، بتایا جائے عملہ کہاں تھا ؟ ، انہوں نے خبردار کیا کہ تحقیقات نہ ہوئیں تو استعفے مانگے جائیں گے ، بعد ازاں شیری ر حمن نے ہاؤس کمیٹی تشکیل دینے کی قرارداد پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

سینیٹر پرویز رشید نے پمز میں سی ایم ایچ طرز کا نظام نافذ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلخانہ کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں لازمی قرار دیا جائے ، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 20 ہزار ارب روپے کا قومی بجٹ ہے مگر ہم پمز نہیں چلا سکتے ۔ فلک ناز چترالی نے پمز انتظامیہ اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سانحے کے روز بچوں کی لاشیں شاپنگ بیگز میں والدین کے حوالے کی گئیں اور انہیں خاموش رہنے کا کہا گیا ، ان کی تقریر پر حکومتی اور ایم کیو ایم ارکان نے احتجاج کیا،اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات اور شکایات موجود ہیں، ایسے شخص کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بچوں کا قتل ہے ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے شاہد خان اور ڈاکٹر کیانی کی سربراہی میں الگ الگ کمیٹیاں قائم کی ہیں، حکومت سانحے پر رنجیدہ بھی ہے اور سنجیدہ بھی، مولانا عطا الرحمن نے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنانے اور کمیٹی کو واضح ڈیڈ لائن دینے کا مطالبہ کیا، وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ ملکی نظام گل سڑ گیا ،یہاں روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں، آئیں مل بیٹھ کر ان کو بچائیں،وزیر اعظم کی قائم کمیٹی کی رپورٹ آ جائے گی، آپ رپورٹ دیکھ کر بتا دیں کہ یہ سقم رہ گیا ہے ،مصطفی کمال نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزارتوں کے لئے ہم اپنی قبروں کو خراب نہیں کریں گے ، کوئی نہیں بچے گا چاہے کتنا بڑا طرم خان ہو ،کوئی ایم این اے ،کوئی سینیٹر پھر فون نہ کریں کہ اس بندے کو کیوں ہٹایا ،قومی اسمبلی میں بھی پمز سانحے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بحث کی ،قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید مصطفی شاہ کی زیر صدار ت شروع ہوا ، اجلاس میں ڈپٹی سپیکر کی ہدایت پر وفاقی وزیر جنید انوار نے جاں بحق بچوں کے لئے فاتحہ خوانی کروائی ،بیرسٹر دانیال کی پیش کردہ متفقہ قرارداد میں سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور وفاقی ہسپتال ، خصوصاً نرسریوں اور بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی انتظامات سخت کرنے کا مطالبہ کیا گیا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر صحت مصطفی کمال کے استعفوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد کے مرکز میں واقع سب سے بڑے ہسپتال کی یہ حالت ہے تو ملک کے باقی حصوں کا اللہ ہی مددگار ہے ،وزیر صحت کے پاس تو سیٹ پر رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا ،شہباز سپیڈ بھی بے نقاب ہوگئی، اسلام آباد کا جو حال شہباز سپیڈ نے کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے ، بیرسٹر گوہر نے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے ،وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کیلئے 50 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد کا اعلان کیا ، جو واقعہ ہوا ہے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی،انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس پیر کو طلب کیاگیا ہے اس میں اس سانحہ پر وزارت داخلہ کی جانب سے رپورٹ پیش کی جائے گی۔

اپوزیشن اس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے اور کچھ دن کے لئے اپنا بائیکاٹ موخر کردے ،پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ ایوان میں معمول کے ایجنڈے کی کارروائی معطل کرتے ہوئے سانحہ پمز کو زیر بحث لایا جائے ،وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے رولز معطل کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔ مصطفی کمال نے کہاکہ پمزسانحہ بہت بڑا ہے اور معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ، 14 بچوں کی اموات کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی ،وفاقی وزیر قانون نے سانحہ پمز پر سپیشل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ، وزیرقانو ن و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے اس پر ہم سب رنجیدہ ہیں ،راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ وزیراعظم کی کمیٹیاں اپنی جگہ مگر پارلیمانی کمیٹی سپیکر کی سربراہی میں بنائی جائے ، پارلیمانی کمیٹی حقائق تلاش کرے ،انہوں نے سوال کیا کہ کیااس واقعے میں کیا کوئی ڈاکٹر اور نرس زخمی ہوئے ہیں، تیسرے دن بھی معلوم نہیں ہوسکا آگ لگی کیسی؟ پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ ای ڈی پمز کو معطل کیا جائے ، چودہ بچوں کی جانیں چلی گئی ہے اور فنڈ کا بھی آڈٹ ہونا چاہے ،بعدازاں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دئیے گئے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...