پاک ایران تجارت ،امریکی پابندیوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں :دفتر خارجہ

پاک  ایران  تجارت ،امریکی  پابندیوں  کا  بغور  جائزہ  لے  رہے  ہیں :دفتر  خارجہ

سندھ طاس معاہد ہ بارے عالمی عدا لت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی تائید، بھارت کوپاسداری کرنا ہوگی ایران امریکا کشیدگی سفارتکاری جاری، مذاکرات پر واپسی کیلئے پرامید :طاہر حسین اندرابی کی آخری بریفنگ

اسلام آباد (وقائع نگار) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان، ایران کے درمیان تجارت پر امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا وزارت تجارت کے ساتھ مل کر بغور جائزہ لیا جا رہا ہے ۔طاہر حسین اندرابی نے آخری ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ یکم ستمبر کو ہیگ میں قائم مستقل عدالت برائے ثالثی (PCA) نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے ۔ بھارت  کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ‘‘التوا’’ میں رکھنے یا عدالتی فیصلے کو مسترد کرنے سے اس کی قانونی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔ پاکستان فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا، اس کیلئے تمام سفارتی و غیر سفارتی آپشنز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بشکیک میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے کرغزستان کے صدر سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ تجارت، معیشت، صنعت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔ اجلاس میں وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان نے ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھال لی، آئندہ سال کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ فی الحال کسی ملک کی باضابطہ درخواست سے آگاہ نہیں، تاہم جو ملک اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سلامتی کے مفادات کے عزم کے ساتھ شمولیت چاہے گا، اس کی درخواست مشاورت کے بعد دیکھی جائے گی۔ایران امریکا کشیدگی کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر تنازع کے خاتمے کیلئے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ وزیراعظم نے بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے تحمل، مذاکرات اور مسلسل سفارتکاری کے ذریعے امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا گزشتہ ہفتے ایران کا دورہ بھی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ کشیدگی بالآخر ختم ہوگی اور فریقین مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے ۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور پاکستان، قطر مشترکہ اعلامیہ فریقین کو مذاکرات کی جانب واپس لانے کیلئے فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ مستقل عدالت برائے ثالثی کے متفقہ فیصلے نے معاہدے کی حیثیت اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کی توثیق کی ہے ۔ بھارت فیصلے کو مسترد کرکے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو تبدیل یا ختم نہیں کرسکتا، نہ ہی بین الاقوامی قانون کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرسکتا ہے ۔ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے بشکیک میں مختلف ملاقاتوں کے دوران مسئلہ کشمیر اٹھایا۔ افغان ناظم الامور کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں شرکت کے بارے میں طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی سرگرمی تھی اور اسے دونوں ممالک کے تعلقات کا پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے ۔بریفنگ کے اختتام پر طاہر حسین اندرابی نے سفیر سجاد حیدر خان کو نئے ترجمان دفتر خارجہ کے طور پر متعارف کرایا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...