قائمہ کمیٹی نے واپڈا کو گرفتاری کا اختیار دینے کابل مسترد کر دیا:کراچی میں پانی قلت پر متحدہ کا احتجاج

قائمہ  کمیٹی  نے  واپڈا  کو  گرفتاری  کا  اختیار  دینے  کابل  مسترد  کر دیا:کراچی  میں  پانی  قلت  پر  متحدہ  کا  احتجاج

برسوں سے جاری منصوبوں میں تاخیر کا ذمہ دار کون ؟ بلاول سمیت ان سب کے گھروں میں ٹینکرز سے پانی نہیں پہنچتا :ارکان کے فور منصوبہ 2030 تک مؤخر ہونے پر آبی وسائل کمیٹی کا اظہار تشویش، معاملے کی مزید تحقیقات کیلئے ذیلی کمیٹی قائم کردی

اسلام آباد (سہیل خان) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے واپڈا کی جانب سے متوازی سکیورٹی فورس قائم کرنے سے متعلق بل کی منظوری مؤخر کردی۔ واپڈا نے اجازت طلب کی تھی کہ اس کی سکیورٹی فورس کو مقدمات درج کرنے کے ساتھ گرفتاری کا اختیار بھی دیا جائے ، تاہم کمیٹی ارکان نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین احمد عتیق انور کی صدارت میں ہوا، جس میں کراچی میں پانی کے بحران، کے فور منصوبے میں تاخیر، قومی آبی و بجلی منصوبوں کی سست روی اور واپڈا سکیورٹی فورس ترمیمی بل 2026ء کا جائزہ لیا گیا۔ واپڈا حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ نجی کمپنیوں سے سکیورٹی حاصل کرنا مہنگا پڑ رہا ہے ، اس لیے واپڈا کو اپنی سکیورٹی فورس قائم کرنے کی اجازت دی جائے ۔صبا تالپور اور جاوید علی شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بل پر مزید مشاورت کیلئے وقت دیا جائے ۔ ارکان نے بل کے سیکشن 7 پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ‘‘فورس’’ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، جبکہ واپڈا فورس کو گرفتاری کے اختیارات دینے پر بھی تحفظات ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے اتفاق رائے پیدا ہونے تک بل کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ کراچی کو پانی کب ملے گا اور برسوں سے جاری قومی منصوبوں میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے کراچی میں پانی کی شدید قلت پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انہیں انتہائی محدود مقدار میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ایم کیو ایم کے ایک وزیر نے بھی صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو فقیروں کی طرح پانی دیا جا رہا ہے ۔ارکان نے کہا کہ بلاول بھٹو سمیت ان کے گھروں میں بھی ٹینکرز کے ذریعے پانی نہیں پہنچتا، جبکہ پورا شہر پانی کے بحران کا شکار ہے ۔شازیہ مری نے کہا کہ 2010ء میں شروع ہونے والے کے فور منصوبے میں مسلسل تاخیر کے باعث کراچی شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔چیئرمین کمیٹی اور ارکان نے حکام سے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے واضح بتایا جائے کہ 2010ء میں پی سی ون بننے کے باوجود 2026ء تک منصوبہ مکمل کیوں نہیں ہوا اور اب کراچی کے شہریوں کو 2030ء میں پانی فراہم کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے ۔ایم کیو ایم کے ارکان نے کہا کہ اب کے فور منصوبے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ فنڈز دستیاب نہیں۔ کمیٹی نے کے فور منصوبے کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات کیلئے ذیلی کمیٹی قائم کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...