نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے : کوئی فرد واحد، سیاسی جماعت یا نمائندے روک نہیں سکتے، نوکری پر رہوں یا نہ رہوں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا : محسن نقوی
اسلام آبادصوبے کا حامی،جو مرضی کر لیں ممدانی اور محمد صادق تو اب آئیں گے ،جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم ہوگی نہ سندھی کی شناخت کوئی چھین سکتا ہے :وفاقی وزیر داخلہ تقسیم ہونی ہے تو تمام صوبوں کی ہونی چاہیے ،پہلے جماعتوں میں جمہوریت لائیں:سعد رفیق،آئین کی حکمرانی کے بغیر نئے صوبوں سے جھگڑا بڑھے گا:شاہد خاقان،ریفرنڈم کرادیں:ایس ایم تنویر حکمران من پسند آئینی شقیں مانتے :خالد مقبول،آئین میں انتظامی اختیارات سے متعلق واضح گنجائش، اتفاقِ رائے ضروری :ملک احمد ،مجیب شامی،حامد میر ودیگرکا قومی پالیسی مکالمے سے خطاب
لاہور(خبرنگار،دنیانیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کوئی فرد یا پارٹی انتظامی یونٹ نہیں روک سکتی، تقسیم کا مقصد تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نظام حکمرانی بہتر بنانا ہے ، نوکری پر رہوں یا نہ رہوں پیچھے نہیں ہٹوں گا،عوام چاہیں گے تو انتظامی یونٹ بنیں گے ،عوامی فیصلے سے کوئی گھبرائے نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی)میں نئے صوبوں سے متعلق قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا اور کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کا ازسرِنو جائزہ لینا ہے ۔ میں نے نظام کو درست کرنے کی بات کی تھی، کچھ لوگوں نے میری گفتگو کوموجودہ حکومت اورکچھ نے سیاسی نظام سے جوڑا، میرا اشارہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کی طرف نہیں تھا۔
حکومتیں پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں بجٹ بھی آتے رہتے ہیں،اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو ڈیلیوری کتنی مل رہی ہے۔ تعلیم، صحت اور انصاف ہر کسی کے پاس ہونا ضروری ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کا یہ حال ہے کہ پانچویں جماعت بچہ عام جملے نہیں پڑھ سکتا۔79 سال بعد بھی اگر شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہمیں سسٹم ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ تمام کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے ۔انہوں نے کہا ہم دنیا کا آبادی کے اعتبار سے پانچویں ملک بن گئے ہیں،کیا پنجاب میں لاہور جیسا کوئی اور شہر ہے ، کیا سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر ہے ،اسلام آباد کو بھی صوبہ بننا چاہیے ،میں اسلام آباد کو بھی صوبہ بنانے کا سب سے بڑا حامی ہوں، اسلام آباد وہ شہر ہے جس کے شہریوں کواین ایف سی کا ایک روپیہ بھی نہیں مل رہا،سی ڈی اے اپنی زمینیں بیچ کرشہر کانظام چلا رہا ہے ، کیا اسلام آباد کے شہری پاکستان کے عوام نہیں ہیں؟ ہم تحصیلیں، ڈویژن اور ضلعے بنا سکتے ہیں۔
اگر نئے اضلاع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے ؟، انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہئے ،انہیں کوئی فرد، جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے۔ نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، اسلام آباد صوبہ بن رہا ہے تو سب کو مل کر لبیک کہنا چاہئے، جو میئر بن کرآگے آتا ہے وہ بہتر حکومت چلاسکتا ہے ، جو مرضی کر لیں ممدانی اور محمد صادق تو اب آئیں گے۔ انہوں نے کہا آج کل نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے بارے میں بہت جذباتی تقاریرہورہی ہیں، یہ ایسی چیز نہیں جو کل یاپرسوں ہونے جارہی ہے۔ اس میں آپ کی نہیں عوام کی رائے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، میری درخواست ہے نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی بات پرجذباتی نہ ہوں، نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے وہ چاہیں تو بنیں نہ چاہیں تو نہ بنیں۔ عوامی فیصلے سے کوئی گھبرائے نہیں، اگر عوام کی مرضی ہے تو ایڈمنسٹریٹو یونٹس بننے دیں، نئے صوبوں کے معاملے پرسب سے بڑے سٹیک ہولڈرزعوام ہیں۔انہوں نے کہا جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور سندھ کے نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔
محسن نقوی نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ قومی اتفاق رائے سے ہونا چاہئے ، تمام سیاسی جماعتوں کواس مسئلے پر بیٹھنا ہوگا، حکومتوں اورپارلیمان کوبیٹھ کرمتعلقہ فریقین کوسننا چاہئے ، صوبوں کی بحث زبان، نسل اور برادری کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے ، انتظامی یونٹس بہتر حکمرانی کیلئے بننے چاہئیں،جنوبی یا شمالی پنجاب کے بعد بھی میں پنجابی ہی رہوں گا، سندھی بھی سندھی رہے گا، بہتر حکمرانی کو عوام کے قریب لانا ہوگا۔مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے کہا میں جمہوری آدمی ہوں اور چھوٹے صوبوں کا حامی ہوں، لیکن جو ہو گا سب کے ساتھ ہو گا۔ بلوچستان کا وزیر اعلیٰ صوبے کے دورے پر نکلتا ہے تو اسے دو دن واپسی پر لگتے ہیں۔ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی نہیں جا سکتا، لہٰذا اگر تقسیم ہونی ہے تو تمام صوبوں کی ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو آئین کی حکمرانی تسلیم کرنی چاہیے ۔ غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور مؤثر انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں تاکہ عام آدمی بھی سیاسی عمل میں آگے آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کی ری سٹرکچرنگ، صوبائی فنانس کمیشنز کے قیام، طلبہ یونینز کی بحالی اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات و مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے ۔ پہلے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے پھر نئے صوبوں کی بات کی جائے ، بیوروکریسی نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کر دئیے ہیں۔انہوں نے کہا ملک میں جو بھی وزیر اعظم بنا اسے جیل جانا پڑا، شاہد خاقان عباسی کو عزت سے بھیجا گیا مگر پھر بھی جیل میں ڈال دیا گیا، 40 سال بعد وہ ایسے چوراہے پر کھڑے ہیں جہاں کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ آئین کی حکمرانی قائم کیے بغیر نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی فائدہ نہیں۔ صوبے بنانے کا شوق ہے تو بنا لیں، اس سے جھگڑا ہی بڑھے گا۔انہوں نے کہا صوبائی حکومتیں بادشاہتوں سے بھی بدتر انداز میں چل رہی ہیں،ملک میں کوئی نظام ہوتا تو ناکام ہوتا، نظام تھا ہی نہیں،مستقل حل تلاش کرنا ہوگا، احتساب کا نعرہ صرف سیاستدانوں کو پکڑنے تک محدود ہوگیا، ذمے داری سب کی ہے لیکن ذمے داری تلاش کرنے کی کسی کی ذمے داری نہیں ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بادشاہ بھی مشاورت کرتے تھے ، ہمارے صوبے ڈائریکٹو پر چلتے ہیں، وزیر اعلیٰ کی زبان سے نکلنے والا لفظ ڈائریکٹو بن جاتا ہے اور پوری بیوروکریسی وزیر اعلیٰ کے ڈائریکٹو پر عمل شروع کر دیتی ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکمران من پسند آئینی شقیں مانتے ہیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل سنجیدہ اور بامقصد قومی مکالمے میں ہے ، قومی پالیسی سازی میں تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔محدود وسائل میں رہتے ہوئے مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔ ملک کی ترقی کیلئے احتساب کے عمل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے ۔ سول سروسز کے ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ آئین میں انتظامی اختیارات سے متعلق واضح گنجائش موجود ہے ۔ اختیارات کی منتقلی منتخب نمائندوں کو ہونی چاہیے تاکہ عوامی مسائل بہتر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
سرکاری انتظامی ڈھانچے کو موجودہ جمہوری اور انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات و ذمہ داریوں کی واضح تقسیم سے حکمرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے اور عوامی ضروریات کو بہتر طور پر حکمرانی کے عمل سے جوڑا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا مضبوط جمہوری نظام کیلئے اداروں کے درمیان آئینی حدود کا احترام ضروری ہے ۔ قومی مسائل پر اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے ، تاہم ملکی مفاد کے معاملات پر اتفاقِ رائے ضروری ہے ۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے رہنما ایس ایم تنویر نے کہا کہ آئین میں ریفرنڈم کا آپشن بھی موجود ہے ، صوبہ بننا ہے یا نہیں بننا آپ ریفرنڈم کرادیں۔
سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے ، تاہم تمام اقدامات دستوری ڈھانچے کے اندر رہ کر کیے جانے چاہئیں۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ بری گورننس نئے صوبے بنانے سے نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے سے ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)ماضی میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کی حامی رہی ہے ، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی چار مرتبہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد منظور کر چکی ہے ، چار صوبوں سے آٹھ تو اس وقت آئین کے اندر رہ کر قائم کیے جا سکتے ہیں ۔اسلام آباد کو فوری صوبہ بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔سینئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد تقریباً 80 برس میں انسانی ترقی کے حوالے سے ہمارے اہداف مکمل نہیں ہو سکے ، آج بھی کروڑوں بچے سکولوں میں داخل نہیں اور لاکھوں بچے غذائی قلت اور نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments