پیپلز پارٹی کا اپوزیشن اتحاد سے رابطہ ،بلاول بھٹو کی علامہ ناصر عباس کو ملاقات کی دعوت:مل کر چلنے کا عندیہ
ہم ان قوتوں کیخلاف مشترکہ جدوجہد میں نہیں آئیں گے تو پھر کیسے سفر آگے بڑھے گا؟، ملاقات کیلئے تیار:اخونزادہ وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد تحریک میں ساتھ نہیں دیں گے ، نئے صوبے نہیں بن سکتے :اپوزیشن لیڈر سینیٹ
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی نے اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان سے رابطہ کیا ہے ، بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کو ملاقات کی دعوت دی ہے ۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے ، بلاول بھٹو سے ملاقات کیلئے تیار ہیں۔
اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو سندھ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن جیسے ہی پی ٹی آئی کا قافلہ کراچی کے قریب پہنچا تو سڑکیں کھود دی گئیں، کارکنوں کو گرفتار اور ہراساں کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ۔ اگر ہم ان قوتوں کیخلاف مشترکہ جدوجہد میں نہیں آئیں گے تو پھر کیسے سفر آگے بڑھے گا؟ بلاول بھٹو وطن واپس آئیں گے تو رابطہ ہوگا اور ملاقات میں تمام امور طے ہوجائیں گے ۔دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ نئے صوبے نہیں بن سکتے ، کسی وفاقی وزیر کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔
پارلیمنٹ کو دھمکی دینے والے کی کوئی حیثیت نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک میں متحدہ اپوزیشن ساتھ نہیں دے گی۔پارلیمنٹ میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے معاملے پر سیاستدانوں نے اپنی ساکھ داؤ پر لگا دی تھی، اب طے کیا ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کو اپنے کندھے فراہم نہیں کریں گے ۔ صوبائی تقسیم کی بات کرنے والے پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں۔ آئین روندا جا رہا ہے ، آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوسکتا ہے ۔ناصر عباس نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر آل پارٹیز پارلیمانی کانفرنس زیر غور ہے ، جس میں حکومت اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا۔ حکومت کو خود یہ کانفرنس بلانی چاہیے ، کیونکہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو خطرات لاحق ہیں۔ موجودہ حکمران بند گلی میں جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کا فوری مشترکہ اجلاس بلایا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments