اضافی چینی کی برآمد کی اجازت دی جائے :شوگر ملز ایسوسی ایشن
چینی کے سرپلس ذخائر، شوگر ملوں کو اضافی اخراجات اور مالی مشکلات کا سامنا
لاہور (اپنے سٹی رپورٹر سے ) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے قومی مفاد میں فوری طور پر 10 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ترجمان کے مطابق متعدد اجلاسوں میں چینی کے سرپلس ذخیرے کی تصدیق کے باوجود حکومت کی جانب سے فاضل چینی برآمد کرنے کی درخواست پر فیصلہ کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ ملوں میں اضافی چینی موجود ہونے کے باعث سرپلس ذخیرہ رکھنے پر اضافی اخراجات، بینکوں کا مارک اپ اور دیگر مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ گنے کی کٹائی اور نئے کرشنگ سیزن کے آغاز میں صرف دو ماہ باقی ہیں، جبکہ شوگر انڈسٹری کو پلانٹ و مشینری کی مرمت، کاشتکاروں کو ادائیگیوں، تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے شدید نقدی قلت کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی فصل سے 80 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہونے کا تخمینہ ہے ، جبکہ پہلے سے موجود 10 لاکھ میٹرک ٹن اضافی ذخیرے کے باعث نئی پیداوار ذخیرہ کرنا مشکل ہوگا۔ ملوں کے گودام بھرے پڑے ہیں اور مارکیٹ میں اضافی چینی کا کوئی خریدار نہیں۔ترجمان کے مطابق اضافی چینی کی برآمد سے 70 کروڑ سے 80 کروڑ ڈالر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ گنے کی قیمت، ٹیکس، اجرت اور درآمدی کیمیکلز کے نرخ بڑھنے سے پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے ، جبکہ چینی کی قیمت پیداواری لاگت سے کم ہونے کے باعث ملوں کے مالی مسائل سنگین ہورہے ہیں۔ مستقبل میں اس صورتحال سے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments