وفاقی وزرا فارم 47 کی پیداوار 18ویں ترمیم پر پارلیمنٹ میں آکر بات کریں:شرجیل میمن
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو مختصر کارروائی کے بعد منگل کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔ وقفہ سوالات کے دوران کسی رکن نے ضمنی سوال نہیں کیا، جس پر کارروائی جلد ختم کردی گئی۔۔۔
سپیکر سید اویس قادر شاہ نے ارکان کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارکان سوال پوچھتے ہیں لیکن خود ایوان میں موجود نہیں ہوتے ۔صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اٹھارہویں ترمیم کے خلاف بیانات پر وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور مصطفی کمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفاقی وزرا فارم 47 کی پیداوار ہیں، یہ حقیقی عوامی نمائندے نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی کی، افسوس ہے کہ وفاقی حکومت کے بعض وزرا اسی ترمیم کے خلاف بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اٹھارہویں ترمیم یا صوبوں کے اختیارات پر اعتراض ہے تو پارلیمنٹ میں آکر بات کریں۔ میڈیا یا عوامی اجتماعات میں بیانات دینے کے بجائے دلیل اور مؤقف کے ساتھ اسمبلی میں بات کی جائے ۔ پہلے عوام کے درمیان جائیں، ووٹ لے کر منتخب ہوکر آئیں، پھر قوم کے فیصلوں پر بات کریں۔ خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے لوگ قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments