ناموس رسالت قانون ہماری ریڈ لائن ،چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول:ختم نبوت کانفرنس

ناموس رسالت قانون ہماری ریڈ لائن ،چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول:ختم نبوت کانفرنس

39ویں سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کا آ غاز ، چناب نگر کی فضا نعرہ تکبیر، اللہ اکبر ،ختم نبوت زندہ باد سے گو نج اٹھی سیاسی انتشار نہیں ہونا چاہیے : کیپٹن (ر)صفدر، امن کیلئے اقدامات ضروری ،فرید پراچہ،انس اعظم ،شبیر عثمانی و دیگر کا خطاب

چناب نگر، چنیوٹ (نامہ نگار ، ڈسٹرکٹ رپورٹر)  انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت جامعہ عثمانیہ ختم نبوت ، مسلم کالونی چناب نگر میں 39ویں سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس روایتی جوش و خروش سے  شروع ہوگئی۔ ملک کے  مختلف شہروں، قصبوں اور دور دراز علاقوں سے ختم نبوت کے کارکنوں اور عقیدہ ختم نبوت سے وابستہ افراد کی قافلوں کی صورت میں آمد کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ چناب نگر کی فضا نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قانون توہین رسالت کے خاتمے یا اسے ‘‘کالا قانون’’ قرار دینے کے مطالبات ملک میں بدامنی اور انتشار کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ قانون ناموس رسالت ہماری ریڈ لائن ہے اور اس میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عاشقان رسول ﷺ اس قانون کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔مقررین نے مزید کہا کہ قادیانی گروہ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے خلاف مبینہ سازشوں میں مصروف ہے ،پیر حبیب اللہ نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے ، اس پر کسی مصلحت، دباؤ یا سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ ملک میں سیاسی انتشار نہیں ہونا چاہیے ، ملکی بہتری کے لیے نوجوانوں کو آگے آکر معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ اور عوام میں شعور و آگہی بیدار کرنے کے لیے علما کے کردار پر زور دیا۔پاکستان راہ حق پارٹی کے رہنما مولانا انس اعظم نے کہا کہ اسلامیان پاکستان نے ہمیشہ عشق رسول ﷺ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنے اور امن و امان کی فضا قائم رکھنے کے لیے مو ثر اقدامات کی ضرورت ہے ۔

عرفان محمود نے اپنے خطاب میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی قوتوں کے ایجنٹ قومی وحدت اور ملکی استحکام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، جنہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔مولانا قاری شبیر احمد عثمانی نے معزز مہمانوں اور کانفرنس کے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا 7 ستمبر 1974ء پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے ، جب قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔مولانا حافظ محمد امجد نے کہا کہ مشن ختم نبوت انتہائی مبارک مشن ہے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مولانا مفتی غلام اصغر صدیقی نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا اس وقت کی قومی اسمبلی کا اہم کارنامہ تھا۔ مولانا قاری اعظم حسین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت وحدت امت کی ضمانت ہے ، جبکہ مولانا محمد یوسف شیخوپوری نے کہا کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔مولانا قاری محمد سلمان عثمانی نے کہا کہ 7 ستمبر کے تاریخی فیصلے کو امت مسلمہ ہمیشہ قومی و ملی جذبے کے ساتھ یاد رکھے گی۔ مولانا قاری احسن رضوان عثمانی، مولانا مفتی عمار قاسمی، مولانا سلطان محمود معاویہ، قاری عبدالرحمان تبسم، محمد حنیف مغل، قاری ابوبکر صدیق مدنی، مولانا ضرار قاسمی اور قاری یوسف قاسمی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، ملکی سلامتی اور قومی وحدت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس میں بعد نماز عصر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جبکہ بعد نماز مغرب اصلاحی بیان اور مجلس ذکر کا اہتمام کیا گیا۔ کانفرنس تاحال جاری ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...