پنجاب میں زرعی زمینیں یکجا کرنے کا 66 سال پرانا قانون ختم
مکمل،منظور شدہ سکیموں کیلئے 365، زیرالتوا معاملات کیلئے 180روز کی مہلت ،70فیصد سے کم کام والی سکیمیں ختم نئے کیسز شروع نہیں ہونگے ، پرانے معاملات 365 روز میں نمٹانے کی ہدایت،ریکارڈ ضلعی کلکٹر کے حوالے ہوگا
لاہور (محمد حسن رضا) پنجاب میں ایک ہی مالک کی مختلف جگہوں پر بکھری زرعی زمینوں کو یکجا کرنے کا 66 سال پرانا قانون ختم کردیا گیا۔ گورنر پنجاب نے پنجاب کنسالیڈیشن آف ہولڈنگز ریپیل ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے ، جس کے بعد محکمہ قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نئے قانون کے تحت اب بکھری ہوئی زرعی زمینوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کوئی نیا کیس یا کارروائی شروع نہیں ہوسکے گی،تاہم پرانے قانون کے تحت پہلے سے شروع ہونے والے معاملات اور لوگوں کے حاصل حقوق ختم نہیں ہوں گے ۔ نئے قانون میں اس حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ ماضی میں ہونے والے کام، فیصلے ، حاصل شدہ حقوق اور دیگر قانونی معاملات اپنی جگہ برقرار رہیں گے ۔قانون کے مطابق جن زرعی زمینوں کی سکیم پہلے ہی منظور ہوچکی ہے ، انہیں مکمل کرنے کے لیے 365 روز کی مہلت دی گئی ہے۔
اس دوران زمین کا قبضہ منتقل کرنے اور زیرالتوا اعتراضات کا فیصلہ کرنے سمیت دیگر ضروری کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔ اگر یہ سکیم 365 روز میں مکمل نہ ہوئی تو اسے ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ متعلقہ ضلع کے کلکٹر کے حوالے کردیا جائے گا، جو پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت اس پر عملدرآمد کرے گا۔جن سکیموں کی ابھی حتمی منظوری نہیں ہوئی لیکن ان میں کم از کم 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ، انہیں باقی کارروائی مکمل کرنے کے لیے 180 روز کا وقت دیا گیا ہے ۔ مقررہ مدت میں کام مکمل ہونے اور سکیم کی منظوری کے بعد معاملہ متعلقہ ضلعی کلکٹر کو بھیج دیا جائے گا تاکہ قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جاسکے۔
اگر 70 فیصد یا اس سے زیادہ کام مکمل ہونے والی سکیم باقی 180 روز میں مکمل نہ ہوسکی تو اسے بھی ختم کردیا جائے گا اور متعلقہ ریکارڈ ضلعی کلکٹر کے حوالے کردیا جائے گا۔اسی طرح جن سکیموں میں 70 فیصد سے بھی کم کام مکمل ہوا ہے ، انہیں بھی ختم کردیا جائے گا اور ان کا ریکارڈ متعلقہ ضلع کے کلکٹر کے سپرد کیا جائے گا۔نئے قانون کے تحت 1960 کے قانون کے تحت اب کوئی نئی کارروائی شروع نہیں ہوسکے گی، جبکہ پہلے سے جاری معاملات کو ان کی پیش رفت کے مطابق نمٹایا جائے گا۔
مکمل اور منظور شدہ سکیموں کے لیے 365 روز جبکہ 70 فیصد یا اس سے زیادہ کام مکمل ہونے والی زیرالتوسکیموں کے لیے 180 روز کی مدت مقرر کی گئی ہے ،بورڈ آف ریونیو پنجاب کو نئے قانون پر عملدرآمد کے لیے ضروری ہدایات اور رہنما اصول جاری کرنے کے اختیارات بھی دے دئیے گئے ہیں۔ بورڈ اس مقصد کے لیے برقی اور ڈیجیٹل نظام بھی قائم کرسکے گا۔یوں پنجاب میں 1960 سے جاری زرعی زمینوں کو یکجا کرنے کا نظام نئے معاملات کے لیے ختم کردیا گیا ہے ، جبکہ پرانے اور زیرالتوا کیسز کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے یا ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا طریقہ کار طے کردیا گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments