اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیدیا :کسی کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنیکا اختیار نہیں :سرکاری مشینری سیاسی پارٹی کے احتجاج میں استعمال نہ ہو:اسلام آبا د ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف درخواست نمٹا دی

 اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیدیا :کسی کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنیکا اختیار نہیں :سرکاری مشینری سیاسی پارٹی کے احتجاج میں استعمال نہ ہو:اسلام آبا د ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف درخواست نمٹا دی

آئی جی خیبرپختونخوا غیرقانونی اجتماع روکیں ،مظاہرین کو منتشر کریں گے ، احتجاج میں شرکت پر مجبور کیا جائے تو افسر ،ملازم اپنے چیف سیکرٹری ،چیف کمشنر یا آئی جی کو آگاہ کریں ،لارجر بینچ عمرایوب،اسد قیصر،اقبال آفریدی کے بھی پاسپورٹ بلاک، 26نومبر احتجاج کیس میں 15ارکان کے وارنٹ جاری ،سہیل آفریدی کے انتخاب کیخلاف درخواست آئینی عدالت میں مقرر

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے قرار دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، عدالت نے ہدایات کے ساتھ پی ٹی آئی کے 27ستمبر کے احتجاج کے خلاف درخواست نمٹادی ،چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف پر مشتمل لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا،عدالت نے کہا کہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری ، سرکاری فنڈز یا سرکاری افسر احتجاج میں استعمال نہ ہوں ،کسی بھی سرکاری ملازم کو احتجاج میں شرکت کے لئے مجبور نہ کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں، کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا حق بھی نہیں ہے ،کوئی سرکاری افسر کسی احتجاج یا ریلی میں شرکت پر مجبور کرنے والے آرڈر پر عملدرآمد نہ کرے ،کوئی بھی افسر جسے مجبور کیا جائے۔۔

 

 وہ فوری طور پر اپنے صوبے کے چیف سیکرٹری ،چیف کمشنر یا آئی جی کو آگاہ کرے ،صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرلز فوری طور پر ہیلپ لائن قائم کریں،عدالت نے قرار دیا کہ کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں کی جا سکتی، اسلام آباد آنے والے راستوں میں رکاوٹ ڈالنا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ تجارت، کاروبار، تعلیمی اداروں اور طبی سہولیات تک رسائی بھی متاثر نہیں ہونی چاہیے ،قبل ازیں سماعت کے موقع پر آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے ، دونوں نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2022 اور 2024 کے پی ٹی آئی احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں چلانے سے متعلق متفرق درخواست دائر کی ہے ۔

ابتدا میں چیف جسٹس نے ریمارکس د ئیے کہ ویڈیوز چلانا اس عدالت کی روایت نہیں تاہم بعد ازاں ویڈیوز صرف ایک مرتبہ چلانے کی اجازت دے دی،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی، انتظامیہ کی رکاوٹیں کرین کے ذریعے ہٹائی گئیں، ڈی چوک میں آگ لگا کر املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور پولیس اہلکار کمال کو شہید کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوئی ، اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کی گئی، رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلنے کی کوشش کی گئی جبکہ ایف نائن پارک کے سامنے گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں جلسے یا ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔

 ،سکیورٹی انتظامات کے لیے کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دو مقاصد سامنے آتے ہیں، ایک سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت کو گھر بھیجنا ، دونوں مطالبے غیرقانونی ہیں ،چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا حکومتی نمائندوں کو بھی اشتعال انگیز تقاریر کا حق حاصل ہے ؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ اشتعال انگیز تقریر کا کسی کو حق حاصل نہیں اور نہ ہی آئین اس کی اجازت دیتا ہے ۔ چیف جسٹس نے دوبارہ پوچھا کہ کیا وزرائے اعلیٰ یا حکومتی نمائندے ایسی تقاریر کرسکتے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ایسا کسی کو حق حاصل نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پرامن احتجاج کا حق ضرور ہے مگر اس کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں، احتجاج کے لیے درخواست دینا ہوتی ہے اور مظاہرین کو تفصیلات فراہم کرنا ہوتی ہیں تاکہ اسی حساب سے سکیورٹی انتظامات کئے جاسکیں،بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے درخواست کو قبل از وقت قرار دیا ہے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص سر پر بندوق رکھ کر کھڑا ہو اور متاثرہ شخص عدالت سے رجوع کرے ،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تقریریں کررہے ہیں کہ وہ 40 لاکھ لوگ لے کر آئیں گے ، ایک سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے اس طرح کی تقریریں کی جارہی ہیں۔

اگر 40 لاکھ لوگ یہاں آجاتے ہیں تو کیا حکومت عدالت کو یہ ہدایت دے گی کہ قیدی کو ضمانت دے دیں؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ، عدلیہ کی آزادی کہاں جائے گی؟ سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبرپختونخوا کو روسٹرم پر طلب کیا اور انہیں جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھنے کی ہدایت کی۔ آئی جی ذوالفقار حمید نے اپنا بیان حلفی عدالت میں پڑھ کر سنایا،چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ اگر کوئی غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا وہ اسے نہیں روکیں گے ؟ آئی جی خیبرپختونخوا نے جواب دیا کہ عدالت کی ہدایات کے مطابق بیان حلفی جمع کرایا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بیان حلفی میں یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ آپ غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام کو روکیں گے ، آئی جی نے کہا کہ اگر کوئی غیرقانونی کام ہوا تو اسے روکیں گے ۔ جسٹس سرفراز ڈوگر نے آئی جی کو ہدایت کی کہ اگر کوئی غیرقانونی اور غیرآئینی اجتماع ہوتا ہے تو اسے روکیں اور مظاہرین کو منتشر بھی کریں ،بعدازاں عدالت نے چار صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا۔ 

اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے ،دنیا نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دے دیا ، 3ایم این ایز اور 12ارکان خیبر پختونخوا اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے فیصلہ جاری کردیا،  پولیس کی جانب سے تھانہ کوہسار کے مقدمہ میں پاسپورٹ بلاک کرنے کی استدعا کی گئی تھی سہیل آفریدی کے ساتھ اسد قیصر، شہرام ترکئی، شاہ احد، شیر علی ارباب، محمد اقبال آفریدی، ڈاکٹر امجد علی، جنید اکبر، شاہد خٹک، زبیر وزیر ، عمر ایوب، ارشد عمر زئی، زر عالم، میاں عمر، اختر خان، ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان، طفیل انجم، آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان، بابر سلیم سواتی، عرفان سلیم، ایڈووکیٹ علی زمان اور ملک شہاب کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا گیا ،عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی افسر کے مطابق ملز م قانونی عمل سے بچنے کیلئے ملک سے فرار ہو سکتے ہیں،عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ اگلے احکامات تک ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کردے ،عدم پیشی پر عدالت نے عمر ایوب، عرفان سلیم کے علاوہ شاہ احد، شیر علی ارباب، زبیر وزیر، بابر سلیم سواتی، محمد عثمان، آصف محسود، عجب گل ودیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔۔

 

 

اور سماعت ملتوی کردی ،دریں اثنا وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ، عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے ۔ سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے خلاف درخواست شیر افضل مروت نے دائر کر رکھی ہے جس میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی بھی استدعا کی گئی ہے ۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس کیس میں آئینی نکتہ کیا ہے ؟شیر افضل مروت نے جواب دیا کہ آئین کی منشا یہ ہے کہ عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو سکتا ہے ،علی امین نے اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں ، درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر نے علی امین کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا، دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تاہم گورنر کی جانب سے اسے بھی منظور نہیں کیا گیا تھا۔

 

، اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دئیے کہ دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تھا، دوسرا استعفیٰ بھی شاید منظور نہیں کیا گیا تھا۔ شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر کی جانب سے استعفیٰ منظور کرنا ضروری ہے تاکہ وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کیا جاسکے ، درخواست گزار کے وکیل نے نوازشریف پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاست نہیں چلا سکتا۔ شیر افضل نے کہا کہ بانی نے جب گنڈاپور کو استعفیٰ دینے کی ہدایت کی تو وہ نااہل تھے ،نااہل شخص کا پراکسی کے ذریعے ریاست چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...