سانحہ پمزنظام کی ناکامی ، کوئی فرد قصور وار نہیں :تحقیقاتی رپورٹ
اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) پمز نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی۔ رپورٹ میں پمز آتشزدگی واقعہ کو 'نظام کی ناکامی' قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ۔۔۔
آگ غالباً اے سی نمبر دو کے بجلی سرکٹ میں خرابی کے باعث لگی تاہم کسی نامزد شخص کو اس مرحلے پر مجرمانہ طور پر قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا ، 4پہلوؤں پر تحقیقات کر کے ذمہ داران کے تعین کی سفارش کی گئی ہے ۔ مکمل تحقیقاتی رپورٹ 42صفحات پر مشتمل ہے ، کمیٹی نے 52 نکات پر مشتمل تحقیقات کے دوران فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی ریکارڈ، کال ریکارڈنگ ، انجینئرنگ اور مرمت سے متعلق دستاویزات، طبی و ہسپتال ریکارڈ، ڈیوٹی اور حاضری کا ریکارڈ، عینی شاہدین کے بیانات، معاہدوں، ریگولیٹری ریکارڈ اور سابقہ انکوائریوں کا جائزہ لیا ، کمیٹی نے اس بنیاد پر ان الزامات کو مسترد کردیا کہ تمام فرنٹ لائن عملہ بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری کا مظاہرہ کیا ، تاہم چند ہی منٹ میں حالات ان کے قابو سے باہر ہو گئے ،قومی فرانزک ایجنسی کی تحقیقات کو سب سے مضبوط تکنیکی شہادت قرار دیتے ہوئے کمیٹی نے کہا رپورٹ نے آگ کی ممکنہ وجہ برقی خرابی قرار دی ، لیکن یہ حتمی طور پر طے نہیں کیا کہ اس خرابی کو روکنے کی ذمہ داری والا شخص یا ادارہ کون تھا۔
فوری طور پر دستیاب عملے میں صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں شامل تھیں۔کمیٹی کے مطابق پمز ایسا ہنگامی کمانڈ سسٹم قائم نہیں کر سکا تھا جو آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی بیک وقت الارم، بیرونی اداروں کو اطلاع، مریضوں کے انخلا، خطرے کے منبع کو بند کرنے ، سکیورٹی اور راستے کھولنے اور امدادی اداروں کے ساتھ رابطے کو یقینی بنا سکتا۔رپورٹ میں پمز اور اس کی انتظامیہ کو ادارہ جاتی سطح پر بنیادی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انتظامیہ معلوم خطرات، سابقہ انتباہات اور متعلقہ افسران کو دی گئی ذمہ داریوں کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ کمیٹی نے کہا کہ رپورٹ کسی نامزد فرد کو فی الحال مجرمانہ طور پر قصوروار قرار نہیں دیتی۔کمیٹی کے مطابق وا قعہ میں نظام کی ناکامی سامنے آئی، تاہم انتظامی، محکمانہ، معاہداتی یا فوجداری ذمہ داری صرف اسی فرد یا ادارے پر عائد کی جائے جس کی ذمہ داری، غفلت اور نقصان سے تعلق شواہد سے ثابت ہو۔ممکنہ فوجداری تحقیقات چار پہلوؤں پر کی جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments