ملک گیر ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ ، 1لاکھ 38 ہزار امیدوار شریک

ملک گیر ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ ، 1لاکھ 38 ہزار امیدوار شریک

شدید گرمی سے کئی طلبہ کی حالت خراب، وی سی آئی بی اے سکھر بھی بیہوش امتحانی مراکز کی سخت سکیورٹی ،جعلی پرچہ وائرل ہوگیا، ہفتے میں رزلٹ کاامکان

لاہور،اسلام آباد ،کراچی (ہیلتھ رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لیاگیا ،ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدوار شریک ہوئے ۔  امتحانی مراکز پر سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ،جعلی پرچہ سوشل میڈیا پر گردش کرتارہا، سکھر میں شدید گرمی سے کئی طلبہ کی حالت خراب، وی سی آئی بی اے سکھر بھی بے ہوش ہوگئے ۔ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ اتوار کو10بجے شروع ہوکر 3 گھنٹے بعد مقررہ وقت پر ختم ہو ا۔ ٹیسٹ کیلئے ملک کے 34 شہروں اور سعودی عرب کے شہر ریاض میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ۔ایم ڈی کیٹ کیلئے ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے ، پنجاب کے میڈیکل کالجز کیلئے 49 ہزار 199، خیبرپختونخوا میں 38 ہزار 841 اور سندھ میں 34 ہزار 233 امیدوار ٹیسٹ میں شریک ہوئے ۔بلوچستان میں 9 ہزار 923، آزاد کشمیر میں 2 ہزار 761 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 721 امیدوار رجسٹرڈ تھے ۔ 8 ہزار سوالات پر مشتمل سوالیہ بینک تیار کیا گیا، ہر صوبے کیلئے علیحدہ پرچہ ہوا ، دو اضافی پرچے بھی تیار کیے گئے ۔ہر پرچے میں 180 سوالات تھے۔ اہم تبدیلی یہ کی گئی کہ جیوینائل کارڈ کی لازمی شرط ختم کردی گئی، جیوینائل کارڈ نہ ہونے پربھی امیدوار امتحان میں شریک ہوئے ۔لاہور میں ایم ڈی کیٹ امتحان پرامن منظم ماحول میں ہو ا،11 ہزار 480 امیدوار شریک ہوئے۔

6 امتحانی مراکز میں انتظامیہ نے بہترین ٹریفک وسکیورٹی انتظامات کئے ۔ وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر سہیل صابر و دیگر افسروں نے امتحانی مراکز میں انتظامات کا جائزہ لیااور کہا ٹیسٹ کا کامیاب انعقاد اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود نے بھی امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ترجمان یو ایچ ایس کے مطابق امتحان کے فوری بعد امیدواروں کو رسپانس فارم کی کاربن کاپیاں فراہم کر دی گئیں۔ ٹیسٹ کی جوابی کلید بھی شام کو جاری کر دی گئی جسکی مدد سے امیدوار سیلف سکورنگ کر سکیں گے جبکہ سرکاری نتیجہ ایک ہفتے میں جاری ہونے کا امکان ہے ۔ سکھر میں دورانِ ٹیسٹ شدید گرمی سے کئی طلبہ کی حالت خراب ہو گئی ،انہیں او آر ایس اور جوس پلایاگیا، ڈاکٹرز کو طلب کیا گیا جبکہ کام کی زیادتی اور نیند پوری نہ ہونے پر وائس چانسلر آئی بی اے سکھر آصف شیخ بھی اچانک بیہوش ہو کرگر پڑے ۔ طلبہ اور عملے نے انہیں سنبھالا ،فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹیسٹ کیلئے لگائے گئے پنڈال کے کچھ بلاکس میں پنکھے کام نہیں کر رہے تھے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...