خیبر پختونخوا : دہشتگردوں کا حملہ، 14 شہید، 35 زخمی، بلوچستان : 18 مزدور اغوا
ڈی آئی خان میں مبینہ خود کش حملہ آورنے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی ،شہدا میں ایکسائز انسپکٹر ،6پولیس اور2کسٹم اہلکار، 2خواتین ،2سالہ بچہ شامل،ایمبولینس پر فائرنگ سے 2ریسکیو اہلکار شہید ڈیرہ بگٹی میں 16دہشتگرد ہلاک، امن فورس کا اہلکار شہید،3زخمی ،دکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، گارڈ شہید،2زخمی ، نیشنل پارٹی کے سابق وزیر کے گھر پر فائرنگ ،گولی گارڈ کو لگی ،قبائلی رہنما شہید
ڈیرہ اسماعیل خان،کوئٹہ، خضدار (کرائم رپورٹر، نامہ نگار ،دنیا نیوز)خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان میں درازندہ میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی مشترکہ انسداد سمگلنگ چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش کار بم دھماکے سے 14 افراد شہید، 35 زخمی ہو گئے جبکہ بلوچستان میں 18 مزدوروں کو اغوا کرلیا گیا۔اطلاعات کے مطابق ڈی آئی خان میں بارود سے بھری گاڑی درازندہ کے علاقہ امن میلہ میں دن 2 بج کر 40 منٹ کے قریب چیک پوسٹ سے ٹکرائی گئی،جہاں تعمیراتی کام جاری تھا،چیک پوسٹ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور وہاں قریب ایک گڑھا بن گیا، دھماکے میں مجموعی طور پر 12 افراد شہید ہوئے ، جن میں 6 پولیس اہلکار، ایک ایکسائز انسپکٹر،2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شامل ہیں، پولیس اور کسٹمز اہلکاروں سمیت 35 افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔
دھماکے سے چیک پوسٹ کے قریب مکان کی چھت گر گئی جس کی وجہ سے 2 خواتین اور ایک بچے کی شہادت ہوئی ہے ۔خودکش دھماکے کے زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر خوارج کی فائرنگ سے مزید 2 ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے ۔واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا۔خیال رہے درازندہ کا شمار خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے انتہائی اہم سرحدی علاقوں میں ہوتا ہے ۔ یہ علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے مغرب کی جانب، جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان زمینی رابطے کے حوالے سے بھی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے درازندہ لگ بھگ 80 کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے اس کے بعد ضلع شیرانی اور اس سے آگے ضلع ژوب واقع ہے ۔اس راستے سے سمگلنگ کی وجہ سے مختلف اداروں کے اہلکار اس چیک پوسٹ پر تعینات رہتے ہیں۔درازندہ کو ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے درمیان ایک اہم رابطہ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسدادِ سمگلنگ چیک پوسٹ پر حملہ، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر (سمگلرز) کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے ۔صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی ، صدر زرداری نے کہا بیرونی سرپرستی میں مذموم اور سفاک کارروائیوں کے مرتکب فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید موثر بنائی جائیں ۔شہبازشریف نے کہا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کے محافظوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے ۔دریں اثنا بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیہہ لوٹی میں چیئرمین ضلع کونسل ڈیرہ بگٹی وڈیرہ غلام نبی شمبانی کے گھر پر مسلح افراد کے حملے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہوگئی ،گزشتہ شب کے حملے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا،بگٹی امن فورس اور مسلح افراد کے درمیان طویل جھڑپ کے بعد حملہ آوروں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم امن فورس کے جوانوں نے ان کا تعاقب کیا ۔تعاقب اور جوابی کارروائی کے دوران 16دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔جھڑپوں کے دوران بگٹی امن فورس کا بھی ایک اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا۔
علاوہ ازیں نال سیاہ پاد قبائل کی سرکردہ شخصیت اور قبائلی رہنما میر غلام نبی سیاہ پاد گزشتہ رات نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہوگئے ،حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے ۔نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک گارڈ زخمی ہو گیا ۔دکی میں نانا صاحب زیارت کے علاقے پلڑی کے مقام پر سڑک تعمیر کرنے والی کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ شہید اور 2 افراد زخمی ہوگئے ۔ مسلح افراد نے کیمپ میں موجود بھاری مشینری اور 4 گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد 18 مزدوروں کو اغوا کرکے لے گئے ۔ جن میں سے 10 کا تعلق پنجاب سے بتایا گیاہے ۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مغوی مزدوروں کی بازیابی اور حملہ آوروں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments