ایم پی اے کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت ضروری : خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ، کیا یہی ہے ریاست مدینہ؟ محسن نقوی

ایم پی اے کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت ضروری : خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ، کیا یہی ہے ریاست مدینہ؟ محسن نقوی

کوئی رکن اسمبلی قتل کر دے تو کیا پولیس گرفتار کرنے کیلئے پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کریگی،قانون کی نظر میں مساوات کی کیا ہی انوکھی تشریح:وزیر داخلہ آپ پارلیمانی نظام کا حصہ ہوتے تو جانتے یہ کوئی نئی شق نہیں،یہ یقینی بناتی ہے کہ گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان کے کام میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو:سپیکر

پشاور،اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے کہا ہے کہ ایم پی اے کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت ضروری ہے ،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کیا یہی ہے ریاست مدینہ ؟ خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی ارکان اسمبلی کی ممکنہ گرفتاریوں کے معاملے پر خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئی جی پولیس کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی شق 11 کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے ۔مراسلے کے مطابق ایکٹ کے تحت کسی رکن اسمبلی کو فوجداری مقدمے میں گرفتار کرنے یا عدالتی حکم پر حراست میں لینے سے قبل سپیکر سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔

سپیکر نے آئی جی پولیس سے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق شق 11 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔مراسلے کے مطابق متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو گرفتاری یا حراست کی وجوہات تحریری طور پر سپیکر کو فراہم کرنا ہوں گی۔ قانون کے تحت سپیکر اگر اسے عوامی مفاد میں ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں تاکہ معاملے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق سپیکر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت میں چالان جمع کرائے جانے سے قبل مزید انکوائری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اب خیبر پختونخوا میں اگر کسی رکنِ اسمبلی(ایم پی اے )پر کسی مجرمانہ فعل کا الزام بھی ہو تو پولیس کیلئے گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینا لازمی ہے ۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں وفاقی وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ اس کے بعد کیا ہوگا، اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی کو قتل کر دے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ قانون کی نظر میں مساوات کی یہ کیا ہی انوکھی تشریح ہے ۔ پوسٹ کے آخر میں محسن نقوی نے کہا کہ بہت خوب، اسی طرح جاری رکھیں! اور کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے ۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے پارلیمانی استحقاق سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے (تو جانتے )کسی رکنِ اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت کی شرط کوئی نئی شق نہیں بلکہ پارلیمانی روایات اور موجودہ قوانین کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا پارلیمانی استحقاق، بشمول کسی صوبائی اسمبلی کے رکن کو فوجداری الزام میں گرفتار کرنے سے قبل سپیکر کی پیشگی اجازت، مقننہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔

ان کے مطابق اس کا مقصد ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنا اور اسمبلی کو بلا خوف و خطر کام کرنے کے قابل بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی استحقاق کسی رکن اسمبلی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا، الزام زدہ رکن تحقیقات، مقدمے اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ سپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی رکن کی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان کے کام میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب رات کی تاریکی میں استثنیٰ کا قانون منظور کیا جائے تو وہ درست قرار پاتا ہے ، لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں قانون منظور کیا جائے تو اسے قانون تسلیم نہیں کیا جاتا۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں بغیر وارنٹ چہرے ڈھکے افراد کی جانب سے منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپوں اور مبینہ گرفتاریوں سے جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کے واقعات میں فائرنگ اور ہلاکتوں نے بھی جمہوریت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کا تحفظ ضروری ہے ۔بابر سلیم سواتی نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں کیا پیغام جا رہا ہے ، لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، امید دم توڑ رہی ہے اور سرمایہ کار خوفزدہ ہیں، جبکہ اقتدار میں موجود افراد ہر قسم کے استحقاق سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن پارلیمانی استحقاقات پر تنقید کی جا رہی ہے ، وفاقی سطح پر موجود بعض ارکان بھی ایسے ہی تحفظات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے اسلامی ریاست کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اسلامی تاریخ میں کسی فرد کو قانون سے بالاتر رکھنے کی کوئی مثال موجود ہے ؟ سپیکر نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ان کے بقول خیبرپختونخوا اور پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کو سراہنے کے بجائے ان کا پاسپورٹ بلاک کیا گیا اور متعدد ایم این ایز و ایم پی ایز کو بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے روکا گیا۔

ان کے مطابق مذکورہ کانفرنس میں 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی تھی۔ بابر سلیم سواتی نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی دیگر اسمبلیوں اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو خط لکھا ہے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل ان کے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ایوان کے محافظ کی حیثیت سے خیبرپختونخوا کے عوام ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے ۔سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور دیگر مبینہ زیادتیوں کے حوالے سے مسلسل رپورٹنگ کر رہی ہیں، جس سے ملک کے عالمی تشخص پر اثر پڑ رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...