پختونخوا میں گورنر راج کا غیر پسندیدہ آپشن موجود : خواجہ آصف
اسلام آباد(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے لیکن یہ غیر پسندیدہ عمل ہے۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ کیلئے انہیں شاید کافی بھتہ وصول نہیں ہوا تھا، اس لئے مارچ ایک ہفتہ آگے بڑھا دیا تاکہ مال اکٹھا ہوسکے، ہفتے بعد ہوسکتا ہے مارچ منسوخ کرکے مال کھاجائیں،بڑے بڑے نام ہیں اورفرمائشی گرفتاریاں ہورہی ہیں۔ میڈیا سے گفتگو اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس ‘‘ پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کا سب سے بڑا جرم دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی ہے بلکہ بھتے کی صورت میں مالی وسائل مہیا کرنا ہے، پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے ،خیبرپختونخوا کو محض پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمی، احتجاج یا لانگ مارچ کے تناظر میں دیکھنا اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایک صوبائی حکومت کی جانب سے کب تک وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں ہوتی رہیں گی؟ کیا پختونخوا میں بڑھتے دہشت گردی کے خطرے کے مقابلے میں صوبائی حکومت نے اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داری پوری کی ؟۔ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت پختونخوا میں بنی ہے انہوں نے ایک ہی ایجنڈا رکھا ہے سرکاری خزانہ لوٹنا اور لوٹ مال کا حصہ لیڈرشپ کو پہنچا نا، اس کے علاوہ انہوں نے کچھ نہیں کیا ۔خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا ان کا نصب العین ایک شخص یا اپنے گروہی مفادات کا حصول ہے یا وطن عزیز کے ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments