خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگ سکتی :وفاقی وزرا : آپشن زیر غور :طارق فضل ، آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا: اعظم نذیر ، پاکستان کیساتھ رہنا ہے یا افغانستان کیساتھ ، پی ٹی آئی فیصلہ کر ے :عطا تارڑ

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگ سکتی :وفاقی وزرا : آپشن زیر غور :طارق فضل ، آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا: اعظم نذیر ، پاکستان کیساتھ رہنا ہے یا افغانستان کیساتھ ، پی ٹی آئی فیصلہ کر ے :عطا تارڑ

ایمرجنسی لگانے کیلئے صوبائی اسمبلی سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں :وزیر برائے پارلیمانی امور ، آئین میں گورنر راج کے حوالے سے بھی مکمل میکنزم موجود :وزیر قانون پی ٹی آئی دہشتگردوں کی مالی معاونت میں ملوث :وزیر اطلاعات ، دہشتگردوں کیخلاف نرم گوشہ کیوں:طلال، سہیل آفریدی لانگ مارچ کے بجائے جیل جانیکی تیاری کریں:امیر مقام

 اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں بلکہ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ایمرجنسی لگے گی۔ایک پروگرام میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کیلئے صوبائی اسمبلی سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں ایمرجنسی نافذ کرنے کا آپشن زیرغور ہے ، جس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی جبکہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو وفاق کا نمائندہ ہوگا۔طارق فضل کے مطابق وفاق کا نمائندہ گورنر بھی ہو سکتا ہے ، یا کوئی اور شخص بھی ہو سکتا ہے جس کا اسی صوبے سے تعلق ہو۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اس معاملے میں آئینی تقاضوں کو ہی مدنظر رکھا جائے گا۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر حالات آئینی طور پر ایسے اقدام کا تقاضا کرتے ہیں تو پھر آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیاکہ آئین میں اس حوالے سے مکمل میکنزم موجود ہے ، جب بھی آئینی حالات اور تقاضے اس کا مطالبہ کریں گے تو اسی طریقہ کار کے تحت ضروری اقدامات کیے جائیں گے ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے ، خیبر پختونخوا حکومت ہر شعبے میں ناکام ہوچکی اور فنڈز پولیس کے بجائے دھرنوں پر خرچ کر رہی ہے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں اور حملہ آوروں کی تشکیل میں 70 فیصد افغان شہری ملوث ہیں، ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں ملوث دہشت گرد کا سراغ بھی کابل سے ملا۔۔۔

دونوں وزرا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ٹی آئی کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اے این پی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دے چکی ہے ، صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے ، ایسا کیوں ہے ؟ سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، پی ٹی آئی تمام حدود پار کرچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت دونوں خراب ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ایک تقریب میں دو افغان مندوبین پاکستانی ترانے کے احترام میں کھڑے نہیں ہوئے ۔ اگر وہ وہاں موجود ہوتے تو ان پر پابندی عائد کرکے ملک سے بے دخل کردیتے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی مذمت نہ کرنا بزدلی ہے اور یہ پی ٹی آئی کے مالی مفادات کو بھی سوٹ کرتا ہے ۔عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں، موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹس موجود نہیں۔ یہی گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں این ایف سی سے ملنے والا حصہ کہاں خرچ کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان نے دوطرفہ سطح، عالمی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے بارہا کابل انتظامیہ کو سمجھایا، تاہم افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے نہیں روکا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ ڈی آئی خان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ طویل پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے افغانستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟ صوبائی قیادت دہشت گردوں کیخلاف نرم گوشہ کیوں رکھتی ہے ؟طلال چودھری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت 14 سال سے سکیورٹی فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی۔ صوبائی حکومت بتائے کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے ؟ صوبے میں سی ٹی ڈی آج بھی کرائے کے مکانوں میں ہے ، فورسز کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں، جیکٹس اور جدید تربیت موجود نہیں، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس سے اختیارات بھی چھیننے کی کوشش کی گئی۔ جب صوبائی حکومت قومی سلامتی کے فورمز سے راہ فرار اختیار کرے گی۔

اور دشمن کا نام لینے سے کترائے گی تو دہشت گردی کیخلاف جنگ کیسے جیتی جائے گی؟طلال چودھری نے کہا کہ دہشت گردی سے شدید متاثرہ پشاور میں صرف 25 کیمرے تھے اور پہلا سیف سٹی منصوبہ اب مکمل ہونے کے قریب ہے ۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگر آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوئی اور اس کے لیے مقررہ آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، گورنر راج آئینی و قانونی راستہ ہے جس پر مشاورت جاری ہے ،سہیل آفریدی لانگ مارچ کرنے کے بجائے جیل جانے کی تیاری کریں۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، صوبے کے عوام ایک عرصے سے دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی صورت میں گورنر فیصل کریم کنڈی ہی اسے لیڈ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ فیصل کریم کنڈی نفیس آدمی ہیں اور انہیں ہٹانے کی کوئی بات نہیں ہوئی، وہ اچھا کام کر رہے ہیں، تاہم باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...