گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں پر مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا:سہیل آفریدی
میری پالیسی پر عمل کریں تو 100 دن میں امن لایا جاسکتا،کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ،بات سننے کو تیار نہیں باربار کی تنبیہات کو وفاقی وزرا نے جھوٹ قراردیا، لاڈلوں کیلئے ایک خیبر پختونخوا کیلئے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں پر اپنے مو قف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں، صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا گیا، خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے ، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی گئی، تاہم بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزرا نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس کے نتیجے میں دوبارہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے ، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ آج صوبے میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے ، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے ۔ خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے رقم پولیس کو دی گئی، مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کیلئے وسائل فراہم کیے گئے اور پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، سپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔ وہ 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ 22 سال سے جاری پالیسی تبدیل کی جائے اور خیبر پختونخوا کے تمام سٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے ۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کی تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لایا جا سکتا ہے ، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں۔ کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے سٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو انہیں اپنے نظریے سے ہٹا دے ، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مو قف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔انہوں نے وفاق سے پالیسی تبدیل کرنے اور پالیسی شفٹ لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچایا جائے ، پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments