خیبر پختونخوا ، ایک سال کے دوران بدانتظامی پر وائٹ پیپر جاری
دہشتگردی، منشیات،سمگلنگ میں اضافے کے دعوے ، تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ
اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)خیبر پختونخوا حکو مت کی کارکردگی اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق جاری کیے گئے ایک وائٹ پیپر میں دہشت گردی، منشیات، سمگلنگ اور انتظامی کمزوریوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے مختلف اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔وائٹ پیپر کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران خیبر پختونخوا میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے ، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تعداد 63 تھی، یوں شہادتوں میں93اعشاریہ 7 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس کی اپنی چھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2026 کے دوران پولیس کو 294 دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے 161 حملے پسپا کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسی رپورٹ میں 122 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور 175 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے ۔ وائٹ پیپر میں انسداد دہشت گردی محکمہ کی افرادی قوت اور سازوسامان کی صورتحال کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔ وائٹ پیپر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ دسمبر 2025 تک سی ٹی ڈی کے لیے درکار 200 ایم فور رائفلوں کے مقابلے میں صرف 9 دستیاب تھیں، جبکہ 35 مطلوبہ نائٹ وژن آلات میں سے 11 موجود تھے ۔ دستاویز میں سی ٹی ڈی کے لیے منظور شدہ 7 ارب 77 کروڑ روپے کے فنڈز کے استعمال، آلات کی فراہمی اور عملی استعداد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔دستاویز میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امن و امان، پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے مختص فنڈز، حفاظتی اقدامات، بھرتیوں اور عملی نتائج سے متعلق مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments