لاہور ہائیکورٹ: علیمہ کی جیل ملاقاتوں ، میڈیکل سہولیات پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنیکا حکم

 لاہور ہائیکورٹ: علیمہ کی جیل ملاقاتوں ، میڈیکل سہولیات پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنیکا حکم

علمیہ کو بیڈشیٹ،کمبل، جوتے ، سوٹ، بیگ، تولیہ، فیس واش، برش،شال فراہم کردی،ہوم سیکرٹری کی رپورٹ عدالت پیش امیر خان کی دوسرے مقدمے میں گرفتاری پر تشویش ،انکوائری کا حکم،بنیادی حقوق چھین لینا کہاں کا انصاف ؟سلمان اکرم راجہ

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو جیل میں میڈیکل سہولیات کی فراہمی اور ملاقات کیلئے درخواست پر سماعت کی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرخ خان لودھی نے ہوم سیکرٹری کی جانب سے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ درخواست گزار علیمہ خان کو جیل میں بیڈشیٹ،کمبل، جوتے ، 6 سوٹ،کالے رنگ کا بیگ، تولیہ، فیس واش، برش اور شال فراہم  کردی گئی ہے ، عدالت نے وکلا سے جیل میں ملاقات اور میڈیکل سہولیات فراہم کرنے کی درخواست پر ہوم سیکرٹری پنجاب کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنیکاحکم دیا،ہائیکورٹ کے باہرمیڈیاسے گفتگومیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف کسی اندیشے کی بنیاد پر کسی کے بنیادی حقوق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے ؟علیمہ خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے ، اس کے ذریعے عوام کو اعلان کرکے بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں، سفاکیت کی تمام حدیں عبور کر دی گئی ہیں ،دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے عدالتی نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد نظربند امیر خان کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کوذاتی طور پر انکوائری کرنیکا حکم دیدیا اور30 ستمبر کورپورٹ طلب کرلی، عدالت نے ہدایت کی کہ رپورٹ میں امیر خان کی گرفتاری کی وجوہات، وقت، طریقہ کار اور اس سے متعلق تمام حالات و واقعات کی مکمل تفصیلات شامل کی جائیں، عدالت نے لاء افسر کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، عدالت نے قرار دیا کہ پولیس رپورٹ نے عدالت کے اعتماد کو متاثر کیا ہے ، واقعات کی ترتیب بادی النظر میں اس تاثر کو جنم دیتی ہے کہ عدالتی کارروائی کو روکنے یا ناکام بنانے کی دانستہ کوشش کی گئی،اگر پولیس کا طرزِ عمل ثابت ہو گیا تو یہ اختیارات کے سنگین غلط استعمال کے مترادف ہو گا،پولیس رپورٹ کے مطابق نظربند امیر خان کو شناخت پریڈ کیلئے جوڈیشل لاک اپ بھیجا گیا تھا، تاہم عدالت نے ایس ایچ او گجرپورہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے گرفتاری کے تمام حالات کی اعلیٰ سطح پر جانچ کو ضروری قرار دیا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...