وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کا ذہن بنالیا تھا، پیپلزپارٹی نے محالفت کی : بلاول بھٹو

وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کا ذہن بنالیا تھا، پیپلزپارٹی نے محالفت کی : بلاول بھٹو

پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم ،دہشتگردی کیخلاف معاہدہ کرے ،پختونخوا نے اہمیت نہ دی تو ایمرجنسی کی حمایت کرینگے وفاق وعدے پورے کرے ،وہاں بیٹھے دوست شوق سے کراچی پر تنقید کریں ، ترقیاتی کام تیزی سے ہورہے ، خطاب

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ ملتوی کر کے وفاق کے ساتھ دہشت گردی کے معاملے پر بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت نے کے پی میں ایمرجنسی کا ذہن بنالیا تھا مگر پیپلزپارٹی نے مخالفت کی اور معاملے کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں اگر حالات بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات پورے ملک میں پھیلیں گے ، احتجاج سیاسی جماعت کا حق ہے ، کے پی حکومت دہشتگردی کے مسئلے کواہمیت نہیں دیتی تو ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے وفاق کی حمایت کریں گے ۔ہر دوسرے دن کے پی کے میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، افغانستان کی جانب سے بھی حملے ہو رہے ہیں،شاید وزیراعظم نے مائنڈ بنا لیا تھاکہ کے پی میں ایمرجنسی لگائیں۔

اگر کے پی حکومت نے ساتھ نہ دیاتوہماری مجبوری ہوگی کہ ایمرجنسی میں وفاق کا ساتھ دیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ کو ختم کرے ،دہشت گردی ختم کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے معاہدہ کریں،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔کراچی میں کیماڑی کے ہارون آباد میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے شکایت کی کہ وفاقی حکومت کراچی سے سوتیلے جیسا سلوک کرتی ہے ۔ ہارون آباد پلانٹ کو وفاقی حکومت کی وعدہ خلافی کے باوجود مکمل کیا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے اس منصوبے میں 50فیصد حصہ دینا تھا۔ وفاقی حکومت نے 50 فیصد فنڈز دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ میں میئر مرتضیٰ وہاب اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ان کی ٹیموں نے پانی کے مسائل کو سنجیدہ لیا اور اسکے حل سے متعلق اقدامات اٹھائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد میں آج کل بہت کچھ ہورہا ہے اور گزشتہ دس روز سے دارالحکومت بند پڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بیماری ہوتی ہے تو کراچی کو کھانسی ہوجاتی ہے ، اگر وہاں دہشت گردی ہوگی تو اس سے سندھ بھی متاثر ہوگا، دہشت گردی پیپلزپارٹی کی ریڈ لائن ہے اور ہمیں متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اس معاملے کو سیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ فوری گورنر راج یا ایجنسی نافذ کی جائے مگر پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ اس معاملے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے پھر ہم نے حکومت سے پی ٹی کے ساتھ مذاکرات کی اجازت مانگی۔ اگر حالات کنٹرول میں نہ ہوئے تو پھر مجبوری میں گورنر راج لگا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی ہتھیار ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں تیزی سے کام ہو رہا ہے اور شہر کی تاریخ میں اس رفتار سے ترقیاتی کام پہلے نہیں ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں ملتا اور کراچی سمیت سندھ بھر کو پانی کی قلت کا سامنا ہے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے دوست کراچی پر تنقید کرتے ہیں تو شوق سے کریں، لیکن وفاق نے کراچی کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے سکھر، حیدرآباد موٹروے اور کے فور منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے ان معاملات پر مایوس کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘شہباز اسپیڈ’ کا نام سنا ہے ، جہاں ضرورت ہے وہاں اس اسپیڈ کا مظاہرہ کیا جائے ۔ وہ آج تک کے فور کے لیے شہباز اسپیڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...