جماعتیں چاپلوس پیدا کرنا بند کریں، اصلاح نہ کی تو کاکروچ باہر آئینگے : سعد رفیق

جماعتیں چاپلوس پیدا کرنا بند کریں، اصلاح نہ کی تو کاکروچ باہر آئینگے : سعد رفیق

عوام کا فیصلہ نہیں مانا تو ملک سانحات سے دوچار ہوتا رہے گا:رہنما ن لیگ،ملک تباہ کرنے میں شامل سب کو پھانسی پر لٹکائیں:ندیم چن ڈیلیوری سسٹم انتہائی کمزور:انوار کاکڑ،عوام ریاست سے بددل:مصطفی کمال،ہائبرڈ نظام مثبت نتائج دے تو قبول:زبیر عمر NFC میں مقامی حکومتوں کا 30فیصد حصہ رکھیں:اسد عمر،کٹھ پتلیوں کے خاتمے تک سیاسی استحکام نہیں آئیگا:حامد خان ودیگر

لاہور (دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں)سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے اب امید نہیں رہی، اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو پھر کاکروچ باہر آئیں گے ، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان کی سربراہی کون کرے گا،راولپنڈی اور اسلام آباد میں طاقت کے مراکز ہیں، ایک ملک میں طاقت کے دو مراکز کیسے ہو سکتے ہیں؟ ۔نجی یونیورسٹی کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، ایک دوسرے پر الزامات اور طعنے دینے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا جبکہ جماعتوں کو چاپلوس پیدا کرنا بھی بند کرنا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ عوام ملک میں بددل ہوتے جارہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا، اگر عوام کا فیصلہ نہیں مانا جائے گا تو ملک سانحات سے دوچار ہوتا رہے گا، سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج اور عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ چھوٹے صوبوں کے حامی ہیں، تاہم مسائل صرف چھوٹے صوبوں کو حقوق دینے سے نہیں بلکہ نیت درست کرنے سے حل ہوں گے ۔ ان کے مطابق ماضی میں ہم نے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ سوتیلے باپ جیسا سلوک کیا۔سابق وفاقی وزیر نے لوکل گورنمنٹ کے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے لوگ اسی نظام کے ذریعے سامنے آئیں گے ، جو لوگ اہلیت نہیں رکھتے انہیں عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کی سیاسی عمر اب زیادہ نہیں رہی، وہ زندگی میں رہتے ہوئے سچ بولنا چاہتے ہیں اور اب آگے انہیں صرف قبر نظر آرہی ہے ، معاشرے کو بیدار کرنے کے لیے مختلف آوازوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہوگا، فی الحال نئی سیاسی جماعتیں بنانے کی ضرورت نہیں، موجودہ لولی لنگڑی اور ٹوٹی پھوٹی جماعتوں سے ہی گزارہ کرلینا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک منتخب حکومت کے دور میں دھرنے کرائے گئے اور نواز شریف کی منتخب حکومت کے دور میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد نے کہا جمہوری نظام کا مقصد صرف انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ عوام کو اختیارات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ہے ، بلدیاتی نظام کو موثر اور بااختیار بنانا ہوگا۔موجودہ انتظامی ڈھانچے کی بہت سی بنیادیں برطانوی دور سے چلی آ رہی ہیں اس لیے وقت کے ساتھ ان کے کردار اور افادیت پر بھی غور ہونا چاہیے ۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ صوبوں کی کوتاہیوں کے باعث عوام ریاست سے بددل ہو رہے ہیں، موثر بلدیاتی نظام آئینی طور پر یقینی بنایا جائے ،بلدیاتی نظام سے عام لوگ ریاستی نظام کا حصہ بنتے ہیں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے ۔گزشتہ 18سال سے میرے صوبے میں ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ہے تاہم کراچی کے شہریوں کو پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات بھی مناسب طور پر میسر نہیں۔

موجودہ سیاسی نظام میں بعض اوقات عوامی نمائندوں کے لئے بھی اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کو ہر کوئی تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن ماضی کے ہائبرڈ نظام کو مسترد کرنے والے یہ وعدہ بھی نہیں کرتے کہ مستقبل میں کسی ہائبرڈ نظام کا حصہ نہیں بنیں گے ۔انہوں نے زور دیا کہ بلدیاتی نظام کو موثر بنا کر اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب لانا ضروری ہے ۔سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ شفاف انتخابات ضروری ہیں تاہم صرف انتخابات درست ہونے سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ گورننس کو سیاسی جماعتوں سے جوڑنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان کا نظام زمیں بوس ہو چکا ہے تاہم ملک کا ڈیلیوری سسٹم انتہائی کمزور ہے جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ،شیخ مجیب الرحمن کے حوالے سے انوار الحق کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ انہیں غدار سمجھتے ہیں اور موجودہ حالات میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے )کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے فتح مکہ کے تاریخی حوالے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ایسے افراد بھی گزرے ہیں جنہیں معافی نہیں دی گئی۔ سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے کامیابی جمہوریت میں ہے ، ہائبرڈ نظام میں نہیں،اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے ، مقامی حکومتوں کے لئے این ایف سی میں 30فیصد حصہ مختص کیا جائے ،وسائل اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ملکی نظام فلاپ ہو چکا ہے ، گزشتہ 30سال میں حالات بد سے بدتر ہوئے ہیں،صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ، اصل مسئلہ نااہلی ہے ، جب تک نااہلی اور ناقص حکمرانی کے ذمہ دار افراد کا احتساب نہیں کیا جائے گا، نظام موثر طور پر نہیں چل سکے گا۔آج کے ہائبرڈ نظام کو اسی صورت قبول کیا جا سکتا ہے جب اس کے مثبت نتائج عوام اور ملک کے سامنے آئیں۔ صوبوں کی تعداد کا معاملہ اٹھا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے ، صوبوں کا نام لے کر نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔

ملک کو نئے نعروں یا انتظامی تقسیم سے زیادہ بہتر حکمرانی، جوابدہی اور معاشی پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے ۔سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا سٹیک ہولڈرز کو سوچنا ہوگا کیا تبدیلی لائیں کہ نچلی سطح تک اختیار و وسائل دیں وگرنہ یہ نظام نہیں بچے گا۔سینئر قانون دان حامد خان نے کہا کہ جب تک کٹھ پتلی ختم نہیں ہوں گے نہ ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور نہ معاشی استحکام کام آئے گا گڈ گورننس تو دور کی بات ہے ۔سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ نوجوان ہاتھ سے نکل رہا ہے اگر نوجوان کے ذہن کو نہیں پہچانیں گے تو وہ سٹیٹس کو کو نہیں مانے گا، عوام کو اقتدار میں شریک کروا لیں لیکن شراکت ٹوپی ڈرامہ نہ ہو، بلدیاتی نظام میں ایسا اختیار ہونا چاہیے کہ کوئی وزیراعلیٰ بھی بلدیاتی نظام کو توڑ نہ سکے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ ہم تو گزشتہ کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ پورا نظام مکمل طور پر کولیپس ہو چکا ہے ، لیکن اب جوں جوں وقت گزر رہا ہے سب کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑ رہی ہے ۔موجودہ ریاست مکمل طور پر چند سرمایہ داروں کے شکنجے اور قبضے میں آ چکی ہے ، بھٹو کا تو پورا خاندان پہلے ہی پھانسی چڑھ چکا ہے ، لیکن باقی تمام ڈکٹیٹرز اور حکمرانوں کو بھی اس کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ، میں خود بھی اس کے لئے حاضر ہوں، آپ لوگ بھی حاضر ہوں اور اس ملک کو تباہ کرنے میں شامل سب کو پھانسی پر لٹکایا جائے ۔پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے کہا کہ گڈ گورننس پر ساری سیاسی جماعتوں کو توجہ دینا ہوگی، اکثر سیاسی جماعتیں گورننس پر تربیت اورکارکنان کو تیار نہیں کرتیں،ہر سال جب بجٹ بنتا ہے تو بیس بلین ڈالر قرض مانگ کر گزارہ کرتے ہیں ،قرضہ ایک سو چالیس بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے ، قومی مفادات کی تجاویز کو صوبے ویٹو کررہے ہیں ،لوکل گورنمنٹ کیلئے آئین میں ترمیم کی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...