90کروڑ خرچ،ون پیشنٹ ون آ ئی ڈی منصوبہ تاحال غیر فعال

90کروڑ خرچ،ون پیشنٹ ون آ ئی ڈی منصوبہ تاحال غیر فعال

وزیر اعظم کے احکامات کے باجود پمز و پولی کلینک کے تمام شعبے ڈیجیٹلائز نہ ہوسکے 20 شعبے ڈیجیٹلائزہو گئے ، انتظام کی ذمہ دار وزارت صحت ،سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر

اسلام آباد (نامہ نگار)وزارت قومی صحت کے ون پیشنٹ ون آئی ڈی منصوبے کے ہارڈویئر پر 90 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ اور وزیراعظم احکامات کے باوجود پمز و پولی کلینک ہسپتال کے تمام شعبے مکمل طور پر ڈیجیٹل نہ ہو سکے ۔منصوبہ کے تحت ان ہسپتالوں کا ادویات، مشینری و خوراک خریداری نظام اور مریضوں کو ترسیل سمیت مختلف شعبوں کا نظام ڈیجیٹل کیا جانا تھا ، وزیراعظم نے وزارت قومی صحت کو 30 مئی 2026 تک پمز ہسپتال کو ون پیشنٹون آئی ڈی نظام پر منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، وزارت صحت اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے منصوبے پر عمل کیاجا نا ہے تاہم وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات نے 30 جون 2026 کو منصوبہ کی مدت مکمل ہونے پر اسے بند کرنے کے احکامات دئیے تھے ۔ پمز ہسپتال کے شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 400 کمپیوٹر، 30 لیپ ٹاپ اور پولی کلینک ہسپتال کے لیے 200 کمپیوٹر اور 10 لیپ ٹاپ کی خریداری کی گئی۔

اس کے باوجود پمز و پولی کلینک ہسپتال کے وارڈز ،آپریشنز تھیٹر، کارڈیک سینٹر، میڈیکل ،مشینری و آلات ،خوراک کے خریداری نظام اور ترسیل، ادویات کی لوکل پرچیز کا نظام، مختلف شعبوں کے درمیان ڈیجیٹلائزیشن نہیں ہو سکی ۔ این آئی ٹی بی نے مذکورہ منصوبہ مکمل کرنے کی رپورٹ بھجوا دی ۔ وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم، ایڈیشنل سیکرٹری محمد لائق، جوائنٹ سیکرٹری ہسپتال ایم بی سانگی ، پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر سبین نے منصوبے کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے کے حوالے سے دنیا کے پیغام اور سوال کا جواب نہیں دیا۔ البتہ ون پیشنٹ ون آئی ڈی منصوبے کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر طارق رحیم نے دنیا کو بتایا کہ 20 شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن ہو چکی ، منصوبہ مکمل ہو چکا ہے ، وزارت قومی صحت منصوبے کے انتظام و نگرانی کی ذمہ دار ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...