سعودی دارالحکومت میں دھماکے، پروازیں منسوخ : ایئر پورٹ پر میزائل حملہ، سفارتی عملے کو عمارتوں کے اندر رہنے کی ہدایت، پاکستانی طیارے حوثیوں کیخلاف استعمال ہونیکی خبر غلط اور من گھڑت : وزارت اطلاعات

سعودی دارالحکومت میں دھماکے، پروازیں منسوخ : ایئر پورٹ پر میزائل حملہ، سفارتی عملے کو عمارتوں کے اندر رہنے کی ہدایت، پاکستانی طیارے حوثیوں کیخلاف استعمال ہونیکی خبر غلط اور من گھڑت : وزارت اطلاعات

3بیلسٹک میزائل مار گرائے :سعودی فوجی اتحاد،ملبہ گرنے سے بچوں کی نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان ،شام کا سعودی عرب کی مدد کیلئے فوج بھیجنے سمیت مختلف فوجی آپشنز پر غور حوثیوں کی یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کے گرد گرفت مضبوط ،کسی دوسرے ملک پر حملے کیلئے فوج نہیں بھیجیں گے :ترکیہ،ترک پارلیمان میں مکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کی تیاریاں

ریاض (نیوز ایجنسیاں )ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے حوثی دعوے کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں ۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو سفر سے پہلے اپنی ایئرلائن سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔جبکہ شہر میں سکیورٹی خدشات کے باعث سفارت کاروں اور تعلیمی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے ہیں ۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایئرانڈیا اور لفتھانسا گروپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔ جمعرات کی صبح ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک طیارے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو شہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد سفارتی عملے کو اپنی عمارتوں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی۔کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں کام کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ بعض کمپنیوں نے اپنے دفاتر خالی کروا لیے ہیں۔ کئی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ بین الاقوامی سکولوں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے ۔ کم از کم ایک سکول میں بچوں کو احتیاطاً تہہ خانے میں منتقل کیا گیا۔اس سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے آگاہ کیا تھا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے ۔جبکہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق شام نے یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مدد کے لیے فوج بھیجنے سمیت مختلف فوجی آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے ۔شام کی وزارت خارجہ کے ایک سفارت کار نے کہا کہ شام حوثیوں کے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، تاہم اس وقت حکومت کی بنیادی توجہ اپنی داخلی ترجیحات اور طویل خانہ جنگی کے بعد ملک کی بحالی پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب فوجی تعاون یا تجربات کے تبادلے کی درخواست کرتا ہے تو یہ صرف سرکاری ذرائع اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدوں کے تحت کیا جائے گا۔رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں اپنے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی ہے، جن میں ترکی اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب نے ان ممالک سے لاجسٹک یا دفاعی نوعیت کی مدد بھی مانگی ہے۔

سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے اس ہفتے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے باب المندب کے اطراف بعض علاقے دوبارہ حاصل کیے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں نے بھی یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کے گرد اپنی گرفت مضبوط کی ہے ۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یمن میں تقریباً 2 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے ۔علاوہ ازیں وفاقی وزارتِ اطلاعات نے امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی اُس خبر کو جھوٹی اور من گھڑت قرار دیا ، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستانی فضائیہ کے طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔

ایکس پر ایک بیان میں وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے ایک بار پھر کہا جاتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایسی کسی تعیناتی یا کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔ادھرترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انھوں نے کہایہ دفاعی معاہدہ ہے ۔ اگر ان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو آپ اس کے دفاع میں مدد کرتے ہیں۔ یہ جارحانہ کارروائی کا معاہدہ نہیں ہے ۔پر یس کانفرنس میں انہوں نے واضح کیا کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...