آئی ایم ایف نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا نئی آٹو پالیسی میں ای ویز یعنی الیکٹرک وہیکلز کو ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی ہے‘ اور وہ پٹرولیم کے چھوٹے صارفین کیلئے وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم کی منظوری دینے پر بھی بمشکل راضی ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول سبسڈی میں مزید صارف نہ بڑھائے جائیں‘ اور فیول سبسڈی چھوٹی گاڑیوں تک محدود رکھی جائے۔ گیس کے ٹیرف سٹرکچر میں تبدیلی‘ گیس کے شعبے میں گردشی قرضے‘ ڈسکوز کی نجکاری اور لائن لاسز کے معاملات بھی زیر غور ہیں۔ چند روز پہلے آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ رکھنے پر زور دیتے ہوئے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود سخت رکھنے کی تجویز دی تھی۔ حکومت نے جو نئی آٹو پالیسی تیار کی وہ بھی ملاحظے کیلئے آئی ایم ایف کے حضور پیش کی گئی کہ وہاں سے اِذن ملے تو ملک میں نافذ کرنے کا قصد کیا جائے۔ اس سے پہلے سنتے رہے کہ سالانہ بجٹ بھی آئی ایم ایف کی نگرانی بلکہ ہدایات کی روشنی میں تیار کیا گیا۔
آئی ایم ایف کے اس حکم پر حکم کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معیشت کے درست نہج پر جانے کی خوشخبریاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تقریباً تین سال قبل معیشت زوال پذیر تھی‘ تاہم رواں مالی سال کے دوران اس کی شرح نمو چار فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بیرونی شعبے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ دو ہفتے قبل زر مبادلہ کے ذخائر اکیس ارب چالیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے تھے‘ جو ملکی تاریخ میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب تقریباً تین ماہ کی درآمدات کیلئے زرمبادلہ موجود ہے۔ تین ماہ کی درآمدات کیلئے زر مبادلہ اکٹھا ہونا کیا واقعی اتنی بڑی خبر ہے کہ اس پر چھلانگیں لگائی جائیں؟ وزیراعظم شہباز شریف نے کچھ ایسی ہی باتیں ایک سال پہلی کی تھیں۔ بجٹ سے پہلے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ایسے مقام پر ہے جہاں ہمیں آگے بڑھنا ہے‘ تمام معاشی اشاریے باعثِ اطمینان ہیں۔ برآمدات‘ ترسیلاتِ زر اور آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سارے دعوے کرنے کے بعد انہوں نے قرار دیا تھا کہ پاکستان اب معاشی میدان میں ٹیک آف کی پوزیشن میں ہے۔ جب ہر کام آئی ایم ایف سے پوچھ کر کیا جا رہا ہے‘ جب ہر پالیسی آئی ایم ایف کی اجازت کی مرہونِ منت ہے تو پھر معاشی استحکام کا کیا سوال؟ اقتصادی ترقی کے دعوؤں کی کیا حیثیت اور معاشی ٹیک آف کے دعوؤں کی کیا حیثیت؟
بحرانوں کی بات کی جائے تو مہنگائی‘ بیروزگاری‘ روپے کی قدر کا کم ہونا‘ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ‘ قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ (اس وقت پاکستان کا بیرونی قرضہ 130ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھی نئے قرضے لینے پڑتے ہیں)‘ زرِ مبادلہ کے ذخائر کا اطمینان بخش نہ ہونا‘ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمدات کا مہنگا ہونا‘ توانائی کے بحران (جس میں توانائی کی قلت اور مہنگا ہونا‘ دونوں شامل ہیں) اور اس بحران کی وجہ سے صنعتوں کی بندش نے روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں‘ جبکہ روزگار کے مواقع محدود ہونے کا مطلب ہے لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی‘ اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کا مطلب ہے صنعتکاروں کی تیار کردہ اشیا کے خریداروں میں کمی۔ بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کا شاخسانہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے اور بنیادی ضروریات جیسے آٹا‘ چینی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول خریدنا بھی عوام کیلئے ممکن نہیں رہا۔ ورلڈ بینک کی آج ہی سامنے آنے والی تازہ ترین اکنامک اَپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان‘ افغانستان‘ مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں تقریباً 48فیصد پاکستان میں مقیم ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں تنازعات‘ معاشی بحران‘ بلند افراطِ زر اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کے ذرائع معاش کو شدید متاثر کیا ہے۔
سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو جو شدید نقصان پہنچا ہے وہ اس پر مستزاد۔ یہ سارے بحران محض وقتی یا عالمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں سے نافذ پالیسیوں کی ناکامی‘ بد عنوانی‘ ادارہ جاتی کمزوری اور فیصلہ سازی میں تسلسل کی کمی کا نتیجہ ہے۔ دہائیوں سے جاری غلط پالیسیوں‘ کرپشن‘ غیر منصفانہ نظام‘ قرضوں پر انحصار اور پیداوار میں کمی نے معیشت کو کمزور بلکہ کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ مالیاتی بد انتظامی ان بحرانوں کو مزید گہرا اور شدید بنا رہی ہے۔ پاکستان کی صنعت اور معیشت درآمدی مواد پر انحصار کرتی ہے‘ اس لیے ان کے پیداواری اخراجات نہایت زیادہ ہیں؛ چنانچہ جو پروڈکٹس تیار ہوتی ہیں وہ قیمتوں کے تناظر میں عالمی منڈی میں موجود ویسی ہی دوسری پروڈکٹس کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ برآمدات کا گراف اتنی ہی تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔
سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے بھی مالی مسائل اور بحرانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پالیسیوں کا عدم تسلسل اس لیے ہے کہ جب بھی کوئی نئی حکومت برسر اقتدار آتی ہے تو وہ گزشتہ حکومت کی پالیسیوں میں تھوڑا بہت ردوبدل کر کے اسے اپنی پالیسیوں کے مطابق بنانے کے بجائے ان پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیتی اور اپنی نئی پالیسیوں کو نافذ کر دیتی ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ترک کر کے نئی پالیسیاں متعارف کرواتی ہے‘ جس سے معیشت میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور کاروباری طبقہ مستقبل کے خدشات سے پریشان ہو کر اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتا ہے۔ اب بھی لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں‘ بیرون ملک سے بھی سرمایہ کار آ کر یہاں سرمایہ لگا سکتے ہیں لیکن محض غیر یقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ سیاسی حالات یقینی ہوں تو وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے بارے میں سوچیں۔
توانائی کا بحران سب بحرانوں کا باپ ثابت ہوا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ‘ قدرتی گیس کے ذخائر میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل نے بھی معاشی ترقی کے حکومتی دعوؤں کی حقیقت نمایاں کر دی ہے۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ توانائی کے سیکٹر میں کپیسٹی پیمنٹس اور ہر سال جمع ہو جانے والے گردشی قرضوں نے بھی قومی معاشی مسائل میں اضافہ کرنے اور غربت کی شرح بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ بجلی پیدا ہو نہیں رہی‘ شارٹ فال کا سامنا ہے لیکن لوگوں سے کپیسٹی پیمنٹس کی رقوم مسلسل نکلوائی جا رہی ہیں۔ رہی سہی کسر ہر محکمے اور زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی بدعنوانی نے پوری کر دی ہے۔ سرکاری محکموں میں بیٹھے بابوؤں کے ہاتھوں عام آدمی کے اس استحصال نے معاشی معاملات کو مزید دگرگوں بنا دیا ہے۔ میرے خیال میں ان بحرانوں پر قابو پائے بغیر ملکی معیشت کے استحکام کے دعوے درست نہیں ہو سکتے۔ بحران در بحران کا سلسلہ جاری رہے گا تو پھر آئی ایم ایف کی جانب سے حکم پر حکم کا معاملہ بھی روکا نہیں جا سکے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments