"KMK" (space) message & send to 7575

معمولی سی خواہش

یہ جو میں ٹریفک کے مسائل پر‘ ماحولیات پر‘ درختوں پر‘ بے ہنگم آبادی پر‘ عدل و انصاف پر اور صفائی کے معاملات پر لکھتا رہتا ہوں تو کیا خیال ہے‘ یہ سب کچھ میں اپنے لیے لکھتا ہوں؟ بلکہ زیادہ وضاحت سے پوچھوں تو کیا میں یہ اپنے آج کیلئے لکھتا ہوں؟ آپ یقین کریں‘ میں ذاتی طور پر رجائی ہونے کے باوجود بہرحال اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ یہ سب معاملات جن پر میں مسلسل لکھ رہا ہوں‘ ان کے مثبت نتائج کم از کم میری زندگی میں تو سامنے نہیں آ سکتے۔ میں ان معاملات میں بہتری اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بارے میں مکمل طور پر نااُمید ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی چیز میں رتی برابر بہتری تو رہی ایک طرف‘ ٹھہراؤ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ ٹریفک‘ صفائی‘ آبادی‘ ماحولیات‘ عدل و انصاف‘ جمہوری اقدار اور مخلوقِ خدا کی توقیر‘ ان سب میں ہر آنے والا دن خرابی کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب بھلا میرے جیسے بندے کی زندگی کے باقی دن ہی کتنے رہ گئے ہیں‘ اور اگر چند سال ہوں بھی تو خرابیاں جتنی جڑیں پکڑ چکی ہیں‘ ان کا ٹھیک ہونا کوئی دو چار دن کی بات نہیں۔ یہ بھی تب ہو گا اگر حکمران اپنی نام نہاد سیاسی مقبولیت سے باہر نکل آئیں جو حقیقی طور پہ ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ بھلا ہمارے حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آ ہی کب رہے ہیں جو وہ ان کے خیال میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔
ٹریفک کا مسئلہ ایسا ہے کہ جب صبح گھر سے نکلتا ہوں تو شروع ہوتا ہے اور میں اس پر کڑھنا شروع کرتا ہوں‘ سارا دن اس سلسلے میں خوار ہوتا ہوں اور یہ معاملہ رات تب تک جاری رہتا ہے جب تک میں گھر واپس نہیں آ جاتا۔ کوئی ایک خرابی ہو تو بندہ اس پر بات کرے۔ سماجی شعور کی تو بھلی کہی‘ کسی شخص کو (معاف کیجئے! دو چار فیصد کو چھوڑ کر) کسی شخص کو اپنی شہری ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔ بالکل معمولی باتیں ہیں جن پر عمل کر کے اپنی آسانی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی سہولت کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ مثلاً گزشتہ سے پیوستہ روز میں نئی نکور بنی ہوئی بلکہ ابھی پوری بنی بھی کب ہے‘ ابھی بن رہی ہے‘ تاہم اس کے کچھ حصے تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ میں ملتان ایونیو کی بات کر رہا ہوں‘ یہاں سرکار نے مرکزی شاہراہ کی دونوں طرف سروس روڈ‘ پارکنگ‘ گرین بیلٹس اور بیٹھنے کی جگہیں بنائی ہیں۔ جو جگہ پارکنگ کیلئے مختص ہے وہاں پیلے رنگ سے ترچھی لکیریں لگا کر گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ کی نشاندہی کی ہے کہ آپ اس رخ پر ان لائنوں کے درمیان گاڑی کھڑی کریں۔ اب یہ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ گاڑی کو کہاں اور کیسے پارک کرنا ہے۔ اس کیلئے صرف بینائی کی ضرورت ہے۔ میں دنیا بھر میں سفر کرتا ہوں جہاں جہاں پارکنگ کیلئے سفید یا پیلے رنگ سے گاڑیوں کو کھڑا کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں گاڑی پارک کرنے والے حضرات گاڑی کھڑی کرتے ہیں‘ اترنے کے بعد اگر یہ دیکھا کہ اس کی گاڑی کی کوئی ایک سائیڈ نشاندہی کرنے والی لکیر کے اوپر آ گئی ہے یا دوسری طرف چلی گئی ہے تو ڈرائیور دوبارہ گاڑی میں بیٹھتا ہے گاڑی کو ریورس کر کے دوبارہ صحیح جگہ پر لگاتا ہے اور باہر آنے کے بعد دوبارہ ایک نظر مارتا ہے کہ گاڑی اپنی جگہ پر درست طریقے سے کھڑی ہے یا نہیں۔ بات گزشتہ سے پیوستہ روز کی ہو رہی تھی‘ وہ کہیں اور چلی گئی۔ میں نے اس روڈ پر واپڈا ٹاؤن کے ساتھ ایک فوڈ چین کے سامنے موجود پارکنگ میں دو لائنوں کے درمیان اپنی گاڑی کھڑی کی اور ریسٹورنٹ میں آ گیا۔ آپ اسے میرا نفسیاتی مسئلہ سمجھ لیں یا کچھ اور‘ لیکن مجھے ہمیشہ ایسی جگہوں پر سڑک والی سائیڈ پر شیشے کے ساتھ بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ گزرتی ہوئی ٹریفک اور چلتے پھرتے لوگ مجھے زندگی اور حرکت کی علامت دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑی مقامات پر جاؤں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی دریا‘ کسی ندی یا کسی نالے کے ساتھ بیٹھوں‘ اور کچھ نہیں تو رواں پانی کو دیکھ کر اپنے اس شوق کی تکمیل کرتا رہوں۔
میں سڑک والی جانب شیشے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب آئے اور انہوں نے اپنی گاڑی کو ان ترچھی اور نشان زدہ پیلی لائنوں کے درمیان کھڑا کرنے کے بجائے اس کے بالکل اُلٹ رخ پر کھڑا کر دیا۔ یوں سمجھیں کہ اگر ترچھی لائنیں دائیں سے بائیں طرف جا رہی تھیں تو اس نے بائیں سے دائیں طرف گاڑی لگا دی۔ وہ گاڑی جو دو لائنوں کے درمیان آ کر ایک گاڑی کی جگہ پر پوری آ جاتی‘ اس نے تین گاڑیوں کی جگہ روک دی۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں اٹھ کر باہر گیا اور وہ صاحب جو نوجوان بھی تھے‘ شکل و صورت اور حلیے سے اچھے خاصے پڑھے لکھے دکھائی دیتے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر کہا کہ جناب اگر میں آپ سے ایک درخواست کروں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گے؟ انہوں نے بڑی خوش خلقی سے کہا: نہیں سر! فرمائیے۔ میں نے کہا کہ آپ سامنے دیکھ سکتے ہیں کہ پارکنگ کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں جو ترچھی ہیں اور آپ نے عین ان کے الٹ گاڑی کھڑی کر دی ہے‘ جس سے تین گاڑیوں کی جگہ رک گئی ہے۔ یعنی آپ نے دو مزید لوگوں کی پارکنگ کی سہولت کو اس غلط پارکنگ کی وجہ سے ختم کر دیا ہے۔ شکر ہے وہ صاحب اس بات پر ناراض نہیں ہوئے۔ تاہم گاڑی سے باہر نکل کر گاڑی کا دروازہ لاک کرتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں بیس پچیس گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ ہے جبکہ یہاں کل پانچ چھ گاڑیاں کھڑی ہوئی ہیں۔ اب بھی بیس بائیس گاڑیوں کی جگہ موجود ہے اور ان گاڑیوں کے آنے سے پہلے میں واپس آ کر اپنی گاڑی لے جاؤں گا۔ میں نے واپس جاتے ہوئے انہیں اتنا ضرور کہا کہ مسئلہ میسر جگہ کا یا پارک شدہ گاڑیوں کی تعداد کا نہیں‘ مسئلہ وہ عادت ہے جسے اپنا کر ہم اپنے لیے اور دوسروں کیلئے آسانی اور سہولت کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان صاحب نے سنی اَن سنی کر دی اور آ کر اسی ریستوران میں بیٹھ گئے جہاں میں بیٹھا ہوا تھا۔ باہر نکلتے ہوئے میں نے ان پر شکایتی انداز کی نظر ڈالی۔ آپ یقین کریں ان صاحب کے چہرے پر کوئی شرمندگی‘ ملال‘ افسوس یا اس قسم کا کوئی تاثر موجود نہیں تھا بلکہ ان صاحب نے نظریں ملنے پر الٹا مجھے استہزائیہ نظروں سے دیکھا اور زیر لب مسکرائے‘ جیسے کہہ رہے ہوں کہ بعض لوگوں کو خدائی خدمتگار بننے کا شوق ہوتا ہے۔
جس کا جہاں دل کرتا ہے وہ گاڑی پارک کر دیتا ہے‘ خواہ اس سے دوسری گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے‘ کسی کو اس چیز کی کوئی پروا نہیں۔ جہاں یوٹرن دو چار فرلانگ دور ہو وہاں پر ٹریفک کے رُخ کے مخالف سمت سے آنا گویا اب فیشن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ تحصیل چوک سے پہلے بوسن روڈ پر ایک یوٹرن ہے جو ایجوکیشن یونیورسٹی‘ گورنمنٹ ماڈل سکول اور ناظمِ تعلیمات یعنی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے دفتر کی جانب مڑنے والی سڑک سے پچیس تیس گز کے فاصلے پر ہے۔ صبح اور سہ پہر کو دفاتر اور تعلیمی اداروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات پر وہاں ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد صحیح سمت پر چلنے والی ٹریفک سے زیادہ نہ سہی تو کم از کم برابر ضرور ہوتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کی کم و بیش نوے فیصد تعداد طالب علموں‘ اساتذہ کرام‘ پروفیسر صاحبان اور محکمہ تعلیم کے ملازمین و افسران پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے معاشرے کا حال اور مستقبل وابستہ ہے۔
ون وے کی خلاف ورزی صرف قانون کا مسئلہ نہیں‘ دوسروں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ آپ یقین کریں یہ فقیر اب بڑی بڑی خواہشات سے تو دستبردار ہو چکا ہے‘ بس اتنا چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں ٹریفک درست سمت رواں ہو‘ پارکنگ صحیح طریقے سے کی ہو‘ لوگ سرخ اشارے پر رک جائیں اور گاڑیاں اپنی لین میں چلیں۔ لیکن لگتا نہیں کہ اس عاجز کی یہ معمولی سی خواہش پوری ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...