بحرینی وزیر خارجہ کی صدر، وزیراعظم فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں : مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس کے معاہدے پر دستخط

بحرینی وزیر خارجہ کی صدر، وزیراعظم فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں : مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس کے معاہدے پر دستخط

معاشی روابط کو فروغ دیں:زرداری،تجارت، سرمایہ کاری کی استعداد بڑھائیں:شہباز شریف،دفاعی تعاون مضبوط بنائیں گے :عاصم منیر مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس 5سال کے وقفے سے نہیں 365دن کے اندر ہوگا:ڈار،15شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی:الزیانی

اسلام آباد(وقائع نگار،نامہ نگار،دنیا نیوز) بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے معاہدے پر دستخط کئے، اس موقع پر مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہ پا کستان بحرین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، معاشی روابط اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے ۔انہوں نے غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل خدمات، تعمیرات، کان کنی، بندرگاہوں سے متعلق امور، تحقیق و ترقی، سیاحت اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔

بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے صدر مملکت کو بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم سلمان بن حمد آل خلیفہ کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں۔علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے پاکستان کی جانب سے تنازعات کے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے کئی قیمتی جانیں بچانے میں مدد ملی۔دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف نے بحرینی وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی اعتماد اور عوامی روابط پر قائم ہیں۔انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے بحرین کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کیلئے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے بحرین کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل مشاورت اور رابطہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بحرین کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جو پاکستان اور بحرین کے درمیان قریبی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

علاوہ ازیں بحرینی وزیر خارجہ نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور پاکستان و بحرین کے درمیان دوطرفہ دفاعی و سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔فیلڈ مارشل نے دفاع اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل تیاری کو سراہا، انہوں نے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں اور کردار کو بھی تسلیم کیا۔

قبل ازیں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزایانی نے پاک بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے معاہدے پر دستخط کئے۔ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، فوڈ سکیورٹی، تیل، گیس اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کیا گیا ہے ۔بحری امور، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور افرادی قوت میں باہمی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے حکومتی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مشترکہ ورکنگ گروپ تجارت اور سرمایہ کاری پر مشاورت سے ادارہ جاتی میکانزم فراہم کرے گا۔ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا پاکستان اور بحرین نے تجارت و سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت و غذائی تحفظ، ہنرمندی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک نے خلیج تعاون کونسل اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کا پروٹوکول طے پا گیا ہے جو باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔ اجلاس کا اہم نتیجہ متعدد مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بنانا ہے ، جو باقاعدہ رابطے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں مدد دیں گے ۔ اجلاس میں خلیج کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور مسلسل کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے محفوظ اور آزادانہ آمدورفت یقینی بنانا ضروری ہے کیونکہ ان آبی راستوں کی علاقائی اور عالمی غذائی و توانائی سلامتی کے حوالے سے اہمیت ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی خطرناک کوشش ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چوتھے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی میزبانی بحرین میں ہونے کا منتظر ہے اور اس حوالے سے یہ عزم کیا گیا ہے کہ آئندہ اجلاس موجودہ اجلاس کی طرح پانچ سال کے وقفے کے بعد نہیں بلکہ 2027 میں 365 دن کے اندر منعقد کیا جائے گا۔بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات انتہائی واضح اور مخلصانہ نوعیت کے ہیں اور اب دونوں ممالک کی توجہ اپنے مضبوط تعلقات کو مزید عملی نتائج میں تبدیل کرنے اور مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر ہے ۔انہوں نے کہا دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے متفقہ منٹس پر دستخط کئے ہیں جس میں 15 سے زائد شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے ، آئندہ ماہ تیل، گیس اور معدنیات سے متعلق توانائی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد کرنے اور غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، لیبر موبیلٹی، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ دونوں ممالک نے جی سی سی اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے اور آئندہ سال 2027 میں بحرین میں ہونے والے چوتھے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے جاری علاقائی بحران کے دوران پاکستان کے اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کے لیے پاکستان کی حمایت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں، بشمول اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی، کو سراہا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...