افغان سرزمین سے دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں:اسحاق ڈار
عالمی برادری دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف، اس فتنے کیخلاف مدد کرے پختونخوا میں ایمرجنسی آسان فیصلہ نہ تھا، پاکستان کیخلاف منفی پروپیگنڈا کرنیوالے نامراد رہیں گے :خطاب
اسلام آباد (وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروپوں کی موجودگی خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے ، افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں، افغانستان سے پاکستان پر حملے بند ہونے چاہئیں۔ عالمی برادری دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس فتنے کیخلاف پاکستان کی مدد کرے ۔ پختونخوا میں ایمرجنسی لگانا آسان فیصلہ نہیں تھا، دھرنوں اور احتجاج سے معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے ، پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام پاکستان میں دہشتگردی کے بدلتے منظرنامے سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی، 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ملکی معیشت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ سرحد پار سے دہشتگرد دراندازی کرکے ہمارے جوانوں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں، جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ بھی افغانستان سے بنایا گیا۔ دنیا کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے ۔ اگست 2025ء میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس بھی ہوا، لیکن بدقسمتی سے افغان حکام نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے ۔ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کو اسلحہ سمیت ہر قسم کی امداد بند کرے ۔نائب وزیراعظم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں قیام امن ہے ، معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں۔ اس کا ہیڈکوارٹرز ریاض میں قائم کیا گیا ہے اور معاہدے کے تحت ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments