آئی ایم ایف شرط : قرض ادائیگیوں کا میچورٹی ٹائم سواچار سال تک بڑھانے کا ہدف
رواں مالی سال سے عملدرآمد ، 2028کی ڈیڈلائن طے ، بیرونی قرضوں کااوسطاً میچورٹی ٹائم سوا چھ سال کیاجائیگا 30 فیصد مقامی قرض کیلئے ایوریج ٹائم ٹو ری فکس شرط بھی پوری کی جائیگی،شریعہ کمپلائنٹ کوٹہ 20فیصد تک بڑھایاجائیگا، دستاویز
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)آئی ایم ایف کی شرط پر قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے میچورٹی ٹائم بڑھانے کیلئے اہداف پر عملدرآمد کرتے ہوئے آئندہ مالی سالی تک میچورٹی ٹائم سوا چار سال تک بڑھایا جائے گا ۔ وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق 2028 تک عملدرآمد کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے ، اوسطاً میچورٹی ٹائم بڑھنے سے فنانسنگ ضروریات میں کمی لائی جا سکے گی ۔ دستاویز کے مطابق مقامی قرضوں کااوسطا ًمیچورٹی ٹائم سوا چار سال، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے سوا چھ سال تک بڑھایا جائے گا، اوسطا ًمیچورٹی ٹائم پر عملدرآمد کا آغاز رواں مالی سال سے ہی کیا جائے گا ، اس وقت مقامی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے اوسطا ًمیچورٹی ٹائم 3 سال 8 ماہ اور غیرملکی قرضوں کیلئے 6 سال 1 ماہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط پر 30 فیصد مقامی قرض کیلئے ایوریج ٹائم ٹو ریفکس شرط بھی پوری کی جائے گی ، مقامی قرض کا 30 فیصد فکسڈ پالیسی ریٹ پر ہو گا ۔ سالانہ قرض پلان کی نئی پالیسی کے مطابق 2028 تک شریعہ کمپلائنٹ کا کوٹہ بڑھا کر 20 فیصد مقرر کیا جائے گا جو اس وقت 13 فیصد تک محدود ہے ، اس کے علاوہ غیرملکی قرضوں کا حجم مجموعی قرضوں کے 40 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جائے گا ۔ دستاویز کے مطابق قرضوں کا مجموعی حجم 86 ہزار 7 سو ارب روپے سے زائد ہے جس میں مقامی قرضوں کا حجم ساڑھے 59 ہزار ارب روپے سے زائد جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم 23 ہزار 4 سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔
دستاویز کے مطابق پرانے قرضوں کی واپسی ملا کر حکومت کو مجموعی طور پر 28 ہزار 647 ارب روپے کی ضرورت ہوگی جو ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے ، پلان کے مطابق مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے 6 ہزار 46 ارب روپے اندرونی ذرائع جبکہ 813 ارب روپے بیرونی ذرائع سے لیے جائیں گے ، حکومت ٹی بلز جیسے قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرے گی اور درمیانی و طویل مدتی بانڈز کی طرف جائے گی۔ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی مد میں 4 ہزار 580 ارب روپے کے نئے بانڈز جاری کیے جائیں گے جس میں 50 فیصد سے زائد فکسڈ ریٹ پر ہونگے ، اسلامی سکوک کی مد میں 3 ہزار 785 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے ۔ حکومت نے اس سال پہلی مرتبہ ہائبرڈ سکوک اور 3 سے 6 ماہ کے قلیل مدتی سکوک متعارف کرائے ہیں ، مجموعی سکوک کا ہدف 6 ہزار 600 ارب روپے رکھا گیا ہے ، قومی بچت کی سکیموں میں اصلاحات، مارکیٹ کے مطابق شرح منافع اور ڈیجیٹلائزیشن کی جائے گی ، عام شہری ڈیجیٹل والٹ اور انویسٹ پاک ایپ کے ذریعے سرکاری بانڈز خرید سکیں گے ۔ بیرونی فنڈنگ کا سب سے بڑا ذریعہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک ہوں گے ، اس کے علاوہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق اندرونی قرضوں میں فکسڈ ریٹ اور شرعی سکوک کا حصہ بڑھانے اور بیرونی قرضوں میں طویل مدتی اور مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ قرضوں کے حجم اور ری فنانسنگ رسک کو کم کیا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments