چلڈرن ہسپتال :نرسری وارڈ میں ایک بیڈ پر3سے 4بچے

چلڈرن ہسپتال :نرسری وارڈ میں ایک بیڈ پر3سے 4بچے

عملے کی شدید قلت کے باعث لواحقین خود بچوں کو سنبھالنے پر مجبور ماؤں کو فرش پر لیٹنا پڑتا ،ہسپتالوں کی صلاحیت بڑھارہے :وزیرصحت

لاہور (ہیلتھ رپورٹر )چلڈرن ہسپتال لاہور کے نرسری وارڈ میں مریضوں کے بے پناہ رش کے باعث بد انتظامی عروج پر پہنچ گئی، ویڈیوز میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے ۔ذرائع کے مطابق نرسری وارڈ میں ایک وارمر / بیڈ پر 3 سے 4 نومولود بچوں کو ایک ساتھ رکھا جا رہا  ہے ، یہاں تک کہ فوٹو تھراپی مشین میں بھی ایک ساتھ کئی بچوں کو رکھا گیا ہے ۔ عملے کی شدید قلت کے باعث لواحقین خود بچوں کو سنبھالنے پر مجبور ہیں، ویڈیو میں لواحقین کو ایمبو بیگ کے ذریعے بچوں کو مصنوعی سانس دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ وارڈ میں جگہ کم پڑنے پر مائیں فرش پر لیٹنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی اصولوں کے تحت 2 سے 3 بچوں کے لیے ایک نرس اور 10 بچوں کے لیے ایک ڈاکٹر کا ہونا لازمی ہے ، تاہم چلڈرن ہسپتال میں 400 بچوں پر صرف 4 ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، یعنی ایک ڈاکٹر 100 معصوم بچوں کا علاج کرنے پر مجبور ہے ۔ اسی طرح 400 بچوں کے لیے صرف 15 سے 16 وینٹیلیٹرز دستیاب ہیں، جس کے باعث بیسیوں بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہسپتال میں سہولیات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے لاہور نیوز کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو نرسری وارڈز میں سہولیات کی بہتری اور فراہمی کی ہدایت کر دی۔ ہسپتالوں کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...