ریاست مخالف مواد:اقرار الحسن ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے سپرد

ریاست مخالف مواد:اقرار الحسن  ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے سپرد

کراچی (سٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی شرقی نے سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف اور گمراہ کن مواد نشر کرنے کے مقدمے میں گرفتار صحافی اقرار الحسن کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا۔

 وکیل صفائی میاں علی اشفاق کی  جسمانی  ریمانڈ کی کارروائی پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی شرقی کی عدالت میں جوڈیشل انکوائری کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔ این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا محمد فیصل منیر خان نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے ۔ مقدمے کے مطابق ملزم کے خلاف انکوائری کی گئی، جس کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر ملزم کے اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ان اکاؤنٹس پر شائع ہونے والی بعض پوسٹس میں ریاست، ریاستی اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد نشر کیا گیا، جس کا مقصد عوام کو ریاست اور قانونی طور پر قائم اداروں کے خلاف اکسانا تھا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والا مواد عوامی نظم و امن، وفاق کی سالمیت اور مختلف گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ تھا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے اور ملزم کے زیر استعمال موبائل فونز، لیپ ٹاپ، سمز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے کنٹرول اور ان سے منسلک ای میل ایڈریسز اور موبائل نمبرز کی تصدیق، مبینہ مواد کی تیاری اور اشاعت میں معاونت کرنے والے دیگر افراد کی نشاندہی، اکاؤنٹس سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدن کی چھان بین اور حذف شدہ یا تبدیل شدہ ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے ملزم کی جسمانی تحویل ضروری ہے ۔ تفتیشی افسر نے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم کو 17 اکتوبر 2026 کو تفتیش میں پیش رفت کی رپورٹ کے ساتھ متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے ۔ وکیل صفائی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 13 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ اول کراچی شرقی رخصت پر تھے اور جوڈیشل مجسٹریٹ الیون بطور لنک جج فرائض انجام دے رہے تھے ۔ درخواست کے مطابق صبح تقریباً آٹھ بجے عدالت کے باقاعدہ اوقات شروع ہونے سے قبل ریمانڈ رپورٹ لنک جج کے سامنے پیش کی گئی جبکہ اقرار الحسن کو مبینہ طور پر جسمانی طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اس کے باوجود ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 10(2)اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 کے تحت ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے بغیر جسمانی ریمانڈ دینا قانونی تقاضوں کے منافی ہے ۔ درخواست میں ریمانڈ کی کارروائی کا مکمل عدالتی ریکارڈ طلب کرنے ، 13 اکتوبر کی صبح چھ بجے سے ساڑھے نو بجے تک ضلعی عدالت شرقی کے داخلی و خارجی راستوں، پارکنگ، جوڈیشل لاک اپ اور متعلقہ عدالتی کمرے یا چیمبر کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے اور معاملے کی جوڈیشل انکوائری کے بعد رپورٹ سندھ ہائیکورٹ کو بھجوانے کی استدعا کی گئی ہے ۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ اقرار الحسن کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرتے وقت دو آئی فون 16 پرو، دو آئی فون 11 پرو اور ایک آئی پیڈ ایئر سمیت پانچ ڈیجیٹل آلات پہلے ہی تحویل میں لیے جاچکے تھے ، اس لیے مزید آلات کی برآمدگی کو جسمانی ریمانڈ کی وجہ بنانا قابل اعتراض ہے۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے اقرار الحسن کی وکلا سے ملاقات کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں اپنے وکلا میاں علی اشفاق اور ثاقب سومرو سے ملاقات اور وکالت نامے پر دستخط کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے دوران اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے پر متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔اقرار الحسن کے اہلخانہ کے مطابق اتوار کی شب انہیں لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اقرار الحسن کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ 30 گھنٹے تک وہ اس بارے میں لاعلم تھے کہ انہیں کس نے حراست میں لیا اور کہاں لے جایا گیا ہے ۔پنجاب میں این سی سی آئی اے کے حکام نے لاہور کی عدالت میں اقرار الحسن کو اپنی تحویل میں لینے کی تردید کی تھی جبکہ پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ اقرار الحسن پنجاب پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...