28ویں ترمیم کے بعد نیا نظام، اس کے تحت بلدیاتی الیکشن
محض انتخابات کافی نہیں،سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات بھی لازمی ہیں
(تجزیہ :سلمان غنی )
چیف الیکشن کمشنر راجہ سلطان سکندر بلدیاتی انتخابات کے بارے میں کافی سنجیدہ نظر آتے ہیں اور انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے دی جانے والی تاریخوں اور مرحلہ وار انتخابی شیڈول کو بھی مسترد کر دیا ہے ،ان کے بقول ہم اگلے چند دن میں پنجاب،اسلام آباد ،کوئٹہ کا انتخابی شیڈول جاری کریں گے ،پنجاب نے جو انتخابی شیڈول الیکشن کمیشن کو جمع کروایا تھا اس میں ترمیم کر دی گئی ہے اور کہا ہے کہ یہ انتخابات اپریل سے پہلے ممکن نہیں ہو سکیں گے ،پنجاب میں 2015 کے بعد بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے ،پی ٹی آ ئی ، مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہی ہیں،اب دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کا انتخابی شیڈول کب جاری کرتا ہے اور کیا پنجاب کی حکومت اس انتخابی شیڈول کے تحت انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنا سکے گی یا پھر کوئی نیا سیاسی جواز پیش کیا جا ئے گا،یہی صورتحال اسلام آباد کی بھی ہے جہاں اسلام آباد میں ایک نئے طرز کا نظام متعارف کروانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس کو کابینہ میں منظور کرانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے ۔ایسے میں پرانے بلدیاتی نظام کے تحت الیکشن ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے ۔کوئٹہ میں بھی بلدیاتی الیکشن کا انعقاد آ سان نہیں لگتا، اب تو یہ کہا جا رہا ہے کہ 28 ویں ترمیم کے تحت بلدیاتی اداروں کو نہ صرف آئینی تحفظ دیا جائے گا بلکہ ایک نیا نظام متعارف کروانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے اور انتخابات اسی نئے نظام کے تحت ہوں گے ، آئینِ کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں و اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ اس لیے سوال صرف انتخابات کرانے کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ منتخب اداروں کو حقیقی اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری دی جاتی ہے یا نہیں۔ محض انتخابات کروا دینا، لیکن تمام اختیارات صوبائی حکومت کے پاس رکھنا، مؤثر بلدیاتی نظام کی ضمانت نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments