ہم تینوں کے گزشتہ آخری سفر کا اختتام ویانا ایئرپورٹ پر ہوا۔ بابر اور صابر مانچسٹر کی فلائٹ پر سوار ہوئے جبکہ میں ویانا سے لندن روانہ ہو گیا جہاں چند دن اسد کے ساتھ گزارنے کے بعد میں نے ملتان چلے جانا تھا۔ حسبِ معمول سفر کی آخری مشترکہ منزل پر بیٹھ کر اگلے سفر کا مقام طے کیا گیا۔ قرعہ فال پرتگال کے نام نکلا۔
بابر‘ صابر اور میں نے کئی سال قبل یہ طے کیا کہ ہم ہر سال چند روز کیلئے کہیں نہ کہیں اکٹھے جایا کریں گے۔ مختلف مجبوریوں اور مصروفیات کی وجہ سے یہ ہر سال جانے والا معاملہ کچھ زیادہ باقاعدگی سے نہیں چل رہا۔ تاہم ہر سال والی بات سے ہٹ کر‘ جب بھی وقت ملے ہم تینوں کسی نئی جگہ چل پڑتے ہیں۔ بابر اور صابر دونوں بھائی مانچسٹر میں رہتے ہیں۔ میں بھی پاکستان سے مانچسٹر آ جاتا ہوں اور پھر وہاں ہم اکٹھے ہو کر اپنی طے شدہ منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ ہر سفر کے اختتام پر خواہ وہ مانچسٹر میں ہو یا کسی اور شہر میں‘ ہم ایئرپورٹ پر بیٹھ کر اگلے سفر اور اگلی منزل کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔
اس روز ویانا ایئرپورٹ پر ہمارے پیشِ نظر تین مقامات تھے: وارسا‘ روم اور لزبن۔ روم کو میں نے ویٹو کر دیا کہ صرف چار دن کے لیے روم جانا مجھے قبول نہیں۔ روم‘ پیسا اور فلورنس کے لیے زیادہ نہ سہی تو بھی سات دن درکار ہیں اور وہ دونوں سات دن کے لیے تیار نہ تھے۔ وارسا کا معاملہ مؤخر کرتے ہوئے بالآخر لزبن جانے کا طے ہو گیا۔ اگلے سال کبھی میں کہیں اور نکل جاتا تھا‘ کبھی صابر کو مصروفیات درپیش آ گئیں‘ کبھی بابر کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ اس طرح یہ معاملہ لٹکتے لٹکتے دو سال پر محیط ہو گیا۔ دو سال بعد میں مانچسٹر پہنچا‘ دو تین دن مانچسٹر میں گزارے اور پھر ہم لزبن پہنچ گئے۔
جہازوں کی بکنگ‘ سفر کے سارے معاملات کو میں نے اور بابر نے آپس میں تقسیم کر رکھا ہے بلکہ تقسیم بھی کیا‘ منصوبہ بندی کی حد تک سفر کے سارے معاملات میں فائنل کرتا ہوں جبکہ عملی طور پر سارا کام بابر کرتا ہے‘ مثلاً جہاں جانا ہے وہاں کے قابلِ دید مقامات کی فہرست بنانا اور ہر روز کا مکمل شیڈول بنانا میری ذمہ داری ہے جبکہ ان جگہوں کے لیے آن لائن ٹکٹوں کی خریداری بابر کے ذمے ہے۔ سفر کے لیے دن طے کرنا میرا کام ہے تاہم اس روز کی ہوائی پروازوں کا شیڈول مجھے بھیجنا بابر کا کام ہے۔ پرواز کی روانگی اور منزلِ مقصود پر آمد کا وقت مدنظر رکھتے ہوئے پرواز کا انتخاب میں کرتا ہوں جبکہ اس کی بکنگ کا سارا معاملہ بابر کے ذمہ ہے۔ اسی طرح رہائش کے لیے دو تین مختلف متبادل رہائش گاہوں کو تلاش کرنا بابر کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنا کام کر کے ان تمام رہائش گاہوں کی تفصیلات اور لوکیشن مجھے بھجوا دیتا ہے۔ میں اس شہر میں اپنے روزانہ کے شیڈول اور لوکیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے رہائش گاہ کا انتخاب کرتا ہوں اور بابر اس کی بکنگ کرتا ہے۔ صابر اس دوران پان مسالا چبانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا۔
میں نے اپنے سفری تجربے کے بعد دو تین لوگوں کے مشترکہ سفر اور سہولت کے ساتھ ساتھ کم خرچ ہونے کے باعث ایئر بی این بی (ایئر بیڈ اینڈ بریک فاسٹ) کے مختصر عرصے کے لیے کرائے پر ملنے والے اپارٹمنٹس کو ترجیح دیتا ہوں۔ امریکی شہر سان فرانسسکو سے کنٹرول ہونے والی یہ رہائشی سہولت ویسے تو پوری دنیا میں دستیاب ہے لیکن یورپ‘ آسٹریلیا اور خاص طور پر امریکہ میں یہ نہ صرف بہت مقبول ہے بلکہ ہوٹل کی نسبت کم خرچ ہونے کے باوجود سہولتوں اور آسانیوں کے حوالے سے ایسی شاندار رہائشی سہولت ہے کہ اس کے بعد ہوٹل میں رہنا بے مزہ لگتا ہے۔ امریکہ میں بچوں کے ساتھ کئی بار اس سہولت کو استعمال کرنے کے بعد تو میری سفری عادتیں باقاعدہ خراب ہو گئیں اور ہوٹل میں رہنا باقاعدہ مصیبت لگنے لگ گیا۔
گیٹلن برگ میں پہاڑی کے قدموں میں بہتی ہوئی جھاگ اُڑاتی ندی کے عین اوپر واقع تین خواب گاہوں‘ لاؤنج‘ کچن اور ندی کے اوپر بڑھے ہوئے برآمدے والی اس رہائش گاہ میں ضرورت کی ہر شے موجود تھی۔ فریج میں دو درجن انڈے‘ ایک عدد بڑی ڈبل روٹی‘ دو لٹر والی دودھ کی بوتل اور کریم چیز پڑا ہوا تھا۔ باورچی خانے میں چائے کی پتی‘ چاکلیٹ پاؤڈر‘ تمام ضروری مسالا جات‘ کیچپ‘ کوکنگ آئل کی بوتل‘ آٹھ لوگوں کے لیے درکار مکمل ڈنر سیٹ‘ ساری کٹلری اور ڈش واشر موجود تھا۔ کچن کیبنٹ میں مختلف اقسام کی چٹنیاں اور ساسز موجود تھیں۔ ماسٹر بیڈکی وارڈ روب میں استری اور ہر کمرے کی الماری میں درجن بھر ہینگر لٹکے ہوئے تھے۔ لانڈری میں واشنگ مشین بمعہ واشنگ پاؤڈر اور ہر باتھ روم میں شیمپو‘ صابن‘ تولیے اور ڈھیروں ٹشو رول پڑے ہوئے تھے۔ لینن کیبنٹ میں اگلے کئی روز کی ضرورت کے پیش نظر دو درجن کے لگ بھگ تولیے اور بیڈ کورز پڑے ہوئے تھے اور لاؤنج میں موجود آئی لینڈ پر ایک عدد کافی مشین پڑی تھی جس کے ساتھ ایک بڑا ڈبہ کافی کے کیپسولز کا موجود تھا۔ غرض چند روزہ سفر اور قیام کے دوران ضرورت کی کیا چیز تھی‘ جو وہاں میسر نہیں تھی۔ گھر کے دروازے پر ڈیجیٹل لاک لگا ہوا تھا جو نہ صرف نمبر ٹچ کرنے سے کھلتا تھا بلکہ اس کا مالک گھر بیٹھے اپنے فون پر اس تالے کی ایپ سے اسکا نمبر جب چاہے تبدیل کر سکتا تھا۔ اس تالے کو کھولنے کا چار نمبروں پر مشتمل کوڈ ہمیں اس گھر کی بکنگ مکمل ہونے کے بعد کی جانیوالی ادائیگی کے فوراً بعد بذریعہ ای میل بھیج دیا گیا تھا۔ رہائش کے معاہدے میں رہائش گاہ (پراپرٹی) کو خالی کرتے وقت مکمل طور پر صاف کر کے اس کی بہترین حالت میں چھوڑنے کا انتباہ تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کا سارا خرچہ مقیم کے ذمے ڈالنے کی شق شامل تھی۔
قارئین! ان ساری تفصیلات کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جہاں اس مسافر طبیعت قلمکار کو پڑھنے والے مسافر طبیعت قارئین اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں‘ وہیں پاکستان میں ایئر بی این بی آپریٹ کرنے والے حضرات یہ جان سکیں کہ اس سہولت کا معیار دیارِ غیر میں کس حد تک بلند ہو چکا ہے۔ سفر نامے پڑھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں کے لیے سودمند اور معلوما ت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پیسہ اخبار کے ایڈیٹر منشی محبوب عالم نے 1900ء میں یورپ‘ مصر اور شام کا سفر کیا اور اس کی روداد اپنے پیسہ اخبار میں قسط وار شائع کی۔ بعد میں 1908ء میں انہوں ساڑھے نو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ''سفر نامہ یورپ‘‘ شائع کیا۔ اس کا اردو زبان کے اولین سفر ناموں میں شمار ہوتا ہے۔ ابن انشا اپنی کتاب ''آوارہ گرد کی ڈائری‘‘ میں 1967ء میں یونیسکو کے زیر اہتمام اپنے یورپ کے سفر کی روداد میں جرمنی کے سفر سے متعلق ایک باب جس کا عنوان ''برلن ہمارا اور منشی جی کا‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ان کے اس سفر کے دوران منشی محبوب عالم کی 67 سال قبل لکھی گئی کتاب بڑی رہنما ثابت ہوئی۔ یہ کتاب ان کے لیے نہ صرف 1900ء کے یورپ اور 1967ء کے یورپ کا تقابلی موازنہ کرنے کے کام آئی بلکہ اس کتاب میں درج بہت سی چیزیں بشمول ہوٹل وغیرہ نہ صرف موجود تھے بلکہ ان کے بہت کام آئے۔
میں حسبِ معمول لزبن جانے کے بجائے کہیں اور چلا گیا لیکن مجھے نہ صرف یہ کہ اپنے قلم کے اس طرح بہک جانے پر کوئی شرمندگی نہیں بلکہ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ نے بھی اس حرکت کا برا نہیں منایا ہو گا کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اب آپ میری اس خراب عادت کے عادی ہو چکے ہوں اور دوسری بات یہ کہ میں بہک کر بھی کم از کم مسافرت کے دائرے سے باہر نہیں نکلا۔ ایئر بی این بی کا قصہ بھی سفر کا ہی حصہ ہے۔ سو اس تفصیل کو بھی لزبن کے سفر میں شامل باجا سمجھیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments