خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگنے کے فوراً بعد اسلام آباد میں لگے ہوئے رکاوٹی کنٹینر ہٹنا شروع ہو گئے۔ بظاہر گورنر راج اور ایمرجنسی کے پی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی طرف سے اس کے سدباب کیلئے مناسب اور ضروری اقدامات نہ کرنے کے الزامات پر لگائی گئی ہے۔ تاہم ان دونوں اقدامات کا نتیجہ کے پی میں جاری دہشت گردی کے خلاف فوری مؤثر اقدامات کے بجائے اسلام آباد سے کنٹینر اٹھوا کر نکل رہا ہے۔
چند روز قبل دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے نتیجے میں 250 ٹرینیں منسوخ ہونے اور 57 میٹرو سٹیشن بند ہونے کی خبر ہمارے اخبارات میں جلی سرخیوں کی صورت میں شائع ہوئی۔ تاہم اس دوران کہیں کوئی خبر‘ علاوہ سوشل میڈیا کے‘ جو ظاہر ہے حقیقت کے بجائے خواہشات کے تابع چلنے والا فورم ہے‘ نہیں ملی کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد میں کیا صورتحال ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والی یہ خبریں بھی کسی طور قابلِ اعتماد نہیں کہ اس کو لگانے والوں کا ایک خاص مائنڈ سیٹ اور مقصد ہے۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کو نہ تو میڈیا کے ذریعے صورتحال سے آگاہی ہو رہی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے ذریعے ۔ ایسے میں معلومات کا ذریعہ سوائے افواہوں کے اور کچھ نہیں۔ ہمیں اس بات کی فکر نہیں کہ اسلام آباد میں آمد و رفت کھلی ہوئی ہے یا بند ہے‘ ریڈ زون میں داخلہ ممکن ہے یا نہیں‘ موٹر وے پر ٹریفک رواں دواں ہے یا رکاوٹیں ہیں لیکن ہمیں یہ جان کر بڑی خوشی اور اطمینان محسوس ہو رہا ہے کہ دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج چل رہا ہے‘ ٹرینیں منسوخ ہو رہی ہیں اور میٹرو سٹیشن بند ہو رہے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں امتحان میں اپنے فیل ہو جانے کا رتی برابر غم نہیں ہوتا لیکن دوسروں کے فیل ہو جانے پر جشن منانے کی پڑی ہوتی ہے۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں سوشل میڈیا پر نہیں ہوں۔ نہ فیس بک پر‘ نہ ٹویٹر پر اور نہ ہی انسٹاگرام وغیرہ پر۔ میرے نزدیک کوالٹی آف لائف کا تصور محض کوٹھی‘ بنگلہ‘ کار اور دولت کا لامحدود حصول نہیں ہے۔ یہ چیزیں ایک حد میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کیلئے بلا شبہ ضروری ہیں اور ہر شخص کو بہرحال یہ حد ضرور مقرر کرنی چاہیے‘ بصورت دیگر زندگی خواہشات کی ایسی دوڑ بن جاتی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور اس کا اختتام دنیا سے دونوں ہاتھ خالی جانے پر ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ''اگر انسان کیلئے سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرتا ہے‘ اور انسان کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی‘ اور اللہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے‘‘۔
بات کوالٹی آف لائف کی ہو رہی تھی۔ میرے نزدیک کوالٹی آف لائف یہ ہے کہ آپ کی بنیادی اور جائز ضروریات پوری ہو رہی ہوں اور آپ زندگی کو ویسے گزار رہے ہوں جیسی آپ گزارنا چاہتے ہیں تو اس سے بہتر دنیاوی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ میرے مالک کا شکر ہے کہ میں اس کی مہربانی کے طفیل زندگی اسی طرح گزار رہا ہوں جیسی گزارنا چاہتا ہوں اور اس آسودہ زندگی میں سوشل میڈیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج کی صورتحال کے تناظر میں یہ بات درست ہے کہ میڈیا میں ہمیں بہت سے حقائق بارے سچ نہیں ملتا‘ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جتنا جھوٹ ملتا ہے اس کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ اگر پرنٹ میڈیا میں مکمل سچ سے آگاہی نہیں ہو پا رہی تو کم از کم جھوٹ بھی نہیں مل رہا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا جھوٹ کا ایسا پہاڑ ہے جس میں سے سچائی تلاش کرنا بھُس کے ڈھیر سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے موسم اور سیاسی تاریخ میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہاں خزاں کا موسم جمہوریت کیلئے بھی پت جھڑ کا موسم ثابت ہوتا ہے۔ اکتوبر ہمارے یہاں موسمِ خزاں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ فارسی میں اسے برگ ریز کہتے ہیں یعنی پت جھڑ۔ ہمارے ہاں درختوں اور جمہوریت کی پت جھڑ میں مماثلت کے چند واقعات درج ذیل ہیں۔
24اکتوبر 1954ء: ملک غلام محمد نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ 14اکتوبر 1955ء: ون یونٹ کا نظام نافذ العمل ہوا۔ 11اکتوبر 1957ء: حسین شہید سہروردی کو وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ 7اکتوبر 1958ء: اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کرکے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ 27 اکتوبر 1958ء: ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ 30اکتوبر 1998ء: سندھ میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ 12 اکتوبر 1999ء: پرویز مشرف نے کُو کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اب 11 اکتوبر 2026ء: خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کا نفاذ ہوا ہے۔ تاہم ہمارے دل میں اپنے ارد گرد واقع ممالک میں جمہوریت کی کسمپرسی پر خوشی کے لڈو پھوٹ رہے ہیں۔
ہم جس طرح اپنے گھر کو بھول کر دوسروں کے گھروں میں ہونے والی خرابیوں پر جشن ِطرب مناتے ہیں اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا جو ایک دوست نے سنایا تھا۔ اس نے بتایا کہ برمنگھم میں ایک پاکستانی کا چچازاد بھائی اسے ملنے کیلئے پاکستان سے آیا۔ اس کا کزن زندگی میں پہلی بار ولایت آیا۔ انگلینڈ میں ایک آبادی میں گھروں کی شکل و صورت‘ ہیئت اور تعمیر تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ ایک ہی سائز کے مکان‘ ایک ہی سائز کے دروازے‘ ایک ہی طرح کی کھڑکیاں اور روشن دان‘ جو ایک ہی مقام پر لگے ہوتے ہیں۔ اگر ان گھروں پر لگا ہوا نمبر یاد نہ ہو تو اچھے خاصے واقف شخص کو بھی مطلوبہ مکان ڈھونڈنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کجا کہ وہ بندہ پہلی بار اس علاقے میں آیا ہو۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ میزبان کا نام بشیر تھا۔ بشیر صاحب صبح اُٹھے اور کام پر جانے سے پہلے انہوں نے اپنے کزن کو کہا کہ وہاں سائیڈ ٹیبل پر کچھ رقم پڑی ہے اور پیچھے دو گلیاں چھوڑ کر ایک بنگالی کی کریانہ شاپ ہے‘ وہاں سے تمہیں چھوٹی موٹی ضرورت کی چیز اور سگریٹ وغیرہ مل جائے گی‘ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو تم وہاں سے جا کر لے لینا‘ میں شام کو آ جاؤں گا۔ دوپہر کو اسے سگریٹ کی طلب ہوئی اور دو گلیاں پیچھے بنگالی کی دکان پر چلا گیا۔ بشیر نے دو گلیاں کہیں تھیں‘ ممکن ہے بنگالی کی دکان تین گلیاں پیچھے ہو۔ بہرحال جب وہ واپس آیا تو مکانوں کی مماثلت نے اسے چکرا دیا۔ مکان کا نمبر اسے یاد نہیں تھا‘ اب وہ پریشان کہ میں کدھر جاؤں۔ مکان کی تلاش میں وہ گلیوں کی ترتیب بھی بھول گیا‘ پہلے مکان کی پریشانی تھی جب گلی بھی بھول گیا تو اس کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ اسے انگریزی بھی نہیں آتی تھی۔ اسی اثنا میں اسے ایک سردار جی آتے ہوئے دکھائی دیے‘ وہ لپک کر ان کے پاس پہنچا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ یہیں رہتے ہیں اور کیا وہ بشیر کو جانتے ہیں۔ وہ اس کا گھر بھول گیا ہے۔ نشے میں ٹُن سردار جی نے اس کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا اور کہا: لو جی! بشیر کو کیوں نہیں جانتا‘ بشیر اپنا بیلی ہے‘ چلو میرے ساتھ۔ مہمان کی جان میں جان آئی‘ وہ سردار جی کے ساتھ چل پڑا۔ اب سردار جی اسے لے کے کبھی ادھر جا رہے ہیں‘ کبھی اُدھر۔ جب پانچ سات منٹ گزرے تو مہمان نے تنگ آ کر کہا کہ سردار جی! اگر آپ کو بشیر کے گھر کا پتا نہیں تو میں کسی اور سے پوچھ لیتا ہوں۔ سردار جی کہنے لگے کہ ابھی میں اپنا گھر تلاش کر رہا ہوں‘ پہلے مجھے اپنا گھر مل جائے ‘ وہاں سے مجھے بشیر کے گھر کا پتا ہے کہ کس طرح جاتے ہیں۔
ہمیں یہ تو علم ہے کہ دوسروں کے ہاں کیا صورتحال ہے لیکن یہ پتا نہیں کہ ہمارے اپنے سامنے کیا ہو رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ فی الوقت ہمیں اپنا گھر مل نہیں رہا اور ہم بشیر کے گھر کی تلاش کے دعویدار ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments