خیبر پختونخوا کیلئے 160ارب کا ترقیاتی پیکیج:ایک پارٹی ملک دشمنی پر اتر آئی، کب تک خون ریزی برداشت کرتے ، مجبوراً ایمرجنسی ، گورنرراج لگایا ،عسکری قیادت کیساتھ ملکر صوبے کے مسائل حل کرینگے :شہبازشریف

 خیبر پختونخوا کیلئے 160ارب کا ترقیاتی پیکیج:ایک پارٹی ملک دشمنی پر اتر آئی، کب تک خون ریزی برداشت کرتے ، مجبوراً ایمرجنسی ، گورنرراج لگایا ،عسکری قیادت کیساتھ ملکر صوبے کے مسائل حل کرینگے :شہبازشریف

پی ٹی آئی دور میں دہشتگردوں کو دوبارہ بلاکر قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئے گئے ، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور نہیں ہو سکتی:وزیراعظم کرپشن خاتمے کے نام پر ووٹ لینے والی پارٹی اسی میں ڈوبی ہوئی،صاف پانی منصوبے میں 100ارب،کوہستان سکینڈل میں 37ارب کی کرپشن:پشاور میں خطاب،ایپکس کمیٹی کا اجلاس، فیلڈ مارشل بھی شریک

پشاور،اسلام آباد(دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ایک پارٹی ملک دشمنی پر اتر آئی، کب تک خون ریزی برداشت کرتے ، مجبوراً ایمرجنسی ، گورنرراج لگایا ،عسکری قیادت کیساتھ ملکر صوبے کے مسائل حل کریں گے اور امن و ترقی کا دور واپس لائیں گے ۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا ایک پارٹی ملک دشمنی پر اتر آئی، کب تک خون ریزی برداشت کرتے ، مجبوراً ایمرجنسی ، گورنرراج لگایا،عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا میں امن و ترقی کا دور واپس لائیں گے ،ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی کا اجلاس گورنر ہائوس پشاور میں تین گھنٹے تک جاری رہا، اجلاس میں امن  و امان، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی موجود تھے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف کی سابق حکومت کے غیر سنجیدہ اقدامات پر اظہار تشویش کیا گیا، وفاقی اور صوبائی قیادت نے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اپپکس کمیٹی اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا، آئی جی پولیس اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی سے متعلق انتظامات اور سہولیات پر بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے ۔

یہ رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا صوبہ ہے ،آزادی کے وقت اس صوبے نے بڑی اکثریت سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا دہشتگردی ، بنیادی عوامی سہولیات کی عدم دستیابی سے بہت متاثر ہے ، خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں،ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ اﷲسے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے ۔ انہوں نے پشاور سکول کی چھت گرنے کے واقعہ میں ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں۔ وزیراعظم نے صوبہ کی صورتحال کا ذکر کرتے کہا کہ چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے ۔ چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا،انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا اور دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔ یہ امن سکیورٹی اداروں سمیت ہماری ما ؤں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید ہوئے اور کئی سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، کئی گھراجڑ گئے ، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا اور تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئے گئے ، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے ، انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا، تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے ، تمام وزرا اعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے ۔

افسوس کا مقام ہے کہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی۔ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے ۔ خیبر پختونخوا سے متعلق یہ انتہائی تکلیف دہ داستان ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرائے اعلیٰ کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گزشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے دن رات محنت کی گئی، سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے ، دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے ؟ ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انہوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی، کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے ؟وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے انتہائی خراب حالات پر صدر مملکت سے دو بار مشاورت کی۔ انہی وجوہات کی بنا پر خیبر پختونخوا میں سخت فیصلے کرنے پڑے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشاورتی کونسل وجود میں آ چکی ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، مشاورتی کونسل میں قابل اور ایماندار لوگ شامل ہیں۔ تیرہ سال سے صوبے کے عوام ترسے ہوئے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ انہیں بھی بنیادی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہوں، اس تبدیلی کے مثبت نتائج حاصل کرنا لازمی ہے ۔ اﷲکی مدد اور آپ سب کے تعاون سے سکیورٹی سمیت مجموعی حالات بہتر ہونگے ۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے وہ خود کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے ، خیبر پختونخوا میں کرپشن کی نت نئی کہانیاں سامنے آئیں، خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی منصوبے میں ایک سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی، کوہستان میگا سیکنڈل میں 37 ارب کی کرپشن سامنے آئی، پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے ۔ وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے پر تمام حلیف جماعتوں ، صدر آصف علی زرداری اور قائد نواز شریف کا خصوصا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے ، خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب روپے فراہم کرے گی، بدلتا، نکھرتا اور مضبوط کے پی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ خیبر پختونخوا کی ترقی کو ایک مربوط سمت دینے ، عوامی ضروریات کو ترجیح دینے اور ترقیاتی اقدامات کو واضح اہداف سے منسلک کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا وفاقی حکومت گندم کی کسی بھی ممکنہ قلت پر قابو پانے کیلئے صوبے کی ضروریات کے مطابق گندم کی فراہمی بھی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو گندم وفاقی حکومت کے نرخوں پر فراہم کی جائے ۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں پولیس کو مضبوط بنانے ، انسدادِ دہشت گردی کی استعدادِ کار میں اضافے ، پولیس کی تربیت کو بہتر بنانے اور سیف سٹی منصوبے مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون اور وسائل فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی برادریوں کی قربانیوں کو بھی سراہا۔اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں، فوج، ایف سی اور پولیس نے خیبر پختونخوا میں امن وامان کے قیام کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے وفاق کا تعاون ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اگر ایک صفحے پر ہوں تو امن و ترقی کا عمل نہیں روکا جا سکتا، صوبے سے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کاروں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہمارا مقصد ہے ، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے وفاق کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور ترقی کے عمل کا حصہ سمجھے ، خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنانا ہے ، عوامی تحفظ اور خوشحالی کیلئے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...