جنگ کے اثرات،پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ کی معیشت 1.3 فیصد سکڑ سکتی:آئی ایم ایف
سعودیہ ، امارات میں کساد بازاری کا خطرہ، توانائی کی پیداوار میں رکاوٹیں معاشی صورتِ حال مزید خراب کر سکتیں پاکستان میں غربت بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی،مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا امکان:عالمی بینک، اصلاحات تیز کرنے پر زور
اسلام آباد،دبئی(مدثر علی رانا،نیوز ایجنسیاں) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )نے جمعرات کے روز ایران جنگ کی وجہ سے اس سال پاکستان ،مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کی معاشی پیداوار میں 1.3 فیصد کی شدید کمی کی پیش گوئی کی ہے ، جس کے بعد 2027میں 6.6فیصد نمو (گروتھ)متوقع ہے۔ تاہم ادارہ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی پیداوار میں مزید رکاوٹیں معاشی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ توانائی کی پیداوار، جہاز رانی (شپنگ)، سیاحت، تجارت اور تجارتی اعتماد پر جنگ کے اثرات کے نتیجے میں اس خطے کی معاشی پیداوار میں 1.3 فیصد کی کمی کا امکان ہے ۔2027 میں معاشی نمو میں تیز رفتاری آئے گی، لیکن ان معیشتوں کی پیداوار عمومی طور پر جنگ سے پہلے کے تخمینوں سے نیچے ہی رہے گی۔آئی ایم ایف نے دبئی میں جاری کردہ اپنی علاقائی رپورٹ میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں ہونے والی جنگ کے اثرات نمایاں لیکن غیر مساوی رہے ہیں۔ توانائی کی پیداوار اور شپنگ میں رکاوٹوں سے براہِ راست متاثر ہونے والی تیل برآمد کرنے والی معیشتوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے ، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک نسبتاً مستحکم ثابت ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مشرق وسطٰی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازور نے ایک پریس کانفرنس میں کہایہ شدید کمی بنیادی طور پر ان معیشتوں میں دیکھی جا رہی ہے جو تنازع سے سب سے زیادہ براہِ راست متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہاخلیج کے کئی تیل برآمد کرنے والے ممالک کے بارے میں توقع ہے کہ وہ اس سال کساد بازاری کا شکار ہوں گے ۔آئی ایم ایف کے علاقائی نقطہ نظر کے مطابق خلیج تعاون کونسل (جی سی سی )کی معیشتوں میں 2026 میں کمی متوقع ہے ، جس میں عمان ایک مستثنیٰ ملک ہے ۔ بحرین، کویت، قطر اور غیر جی سی سی رکن عراق کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں دو ہندسوں (ڈبل ڈیجیٹ) میں کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہایہ ممالک اگرچہ توانائی کی تجارت میں رکاوٹوں سے نسبتاً کم متاثر ہوئے ہیں، لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی اب پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ 2026 میں کساد بازاری کا تجربہ کریں گے ۔رپورٹ کے مطابق بنیادی فرض یہ ہے کہ تنازع 2027 کے اوائل میں کم ہو جائے گا اور سال کے دوران تجارت تدریجی طور پر معمول پر آ جائے گی، لیکن معاشی صورتحال اب بھی غیر معمولی طور پر شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے ۔جہاد ازور نے کہاایک طویل تنازع معاشی صورتحال کیلئے بنیادی خطرہ بنا ہوا ہے ۔آئی ایم ایف نے کہا کہ اگر سرمایہ کار مصنوعی ذہانت(اے آئی)سے حاصل ہونے والے پیداواری فوائد کا ازسرنو جائزہ لیتے ہیں اور افراطِ زر (مہنگائی) اور مالیاتی صورتحال کے خدشات کے درمیان شرحِ سود مزید بڑھتی ہے تو بیرونی مالیاتی حالات بھی سخت ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق تیل درآمد کرنے والی معیشتوں میں ملکی طلب کو بیرونِ ملک مقیم افراد کی بھیجی گئی رقم (زرِمبادلہ)، سیاحت کی آمد، سازگار مالیاتی حالات اور فوری پالیسی اقدامات سے سہارا مل رہا ہے جو صارفین کو اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ قفقاز اور وسطی ایشیا میں معاشی نمو ایک زیادہ پائیدار رفتار کی طرف جا رہی ہے ، جس کے تحت 2026 میں معاشی پیداوار میں 5.2 فیصد اور 2027 میں 5 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔آئی ایم ایف نے اپنے گزشتہ ہفتے کے سالانہ اجلاسوں کے اہم پیغام کو دہراتے ہوئے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے ، مالیاتی پائیداری کو یقینی بنانے ، مرکزی بینک کی خودمختاری کو قائم رکھنے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ساختی اصلاحات نافذ کرنے کو ترجیح دیں۔دریں اثنا عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت میں تیز رفتار ترقی کیلئے سالانہ 6.2 سے 6.9 فیصد شرح نمو حاصل کرنے اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا ہے ، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 رہنے کی پیشگوئی کی ہے ۔عالمی بینک کی تازہ رپورٹ اٹیننگ اسکیپ ویلاسٹیکے مطابق پاکستان اگر نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، اداروں کو مضبوط اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کیلئے مؤثر اصلاحات کرے تو 2050 تک فی کس آمدن تین گنا ہو سکتی ہے اور ملک ویتنام کی موجودہ آمدن کی سطح تک پہنچ سکتا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال میں 3.2 فیصد تھی، محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے باعث جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ترسیلات زر میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی میں مدد ملی۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام میں بہتری کے باوجود پاکستانیوں کی فی کس حقیقی آمدن میں اضافے کی شرح تقریباً 1.6 فیصد ہے ، جو تیز رفتار ترقی کیلئے مزید اصلاحات کی ضرورت ظاہر کرتی ہے ۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے مطابق پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور عالمی منڈیوں نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے ، تاہم فی کس آمدن میں سست رفتار اضافے کے باعث تیز تر ترقی کیلئے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔
رپورٹ میں کاروباری ماحول بہتر بنانے ، ٹیکس نظام میں اصلاحات، مالی وسائل تک رسائی آسان بنانے اور معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔عالمی بینک کے مطابق بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل، قومی ٹیرف پالیسی کے تحت تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری جیسے اقدامات پہلے ہی جاری اصلاحات کا حصہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق توانائی کی سبسڈی مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 0.8 فیصد رہ گئی،نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار ترقی کیلئے مربوط منصوبہ بندی اور اصلاحات پر مستقل عمل درآمد ضروری ہے ۔عالمی بینک کی پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں ہر سال 36 لاکھ افراد کو روزگار کی ضرورت ہے جبکہ روزگار عوام کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق نہیں ہے ،تقریباًہر چھ افراد میں سے ایک فرد روزگار سے محروم ہو رہا ہے ، 2018 کے بعد سے پیدا ہونے والی 1 کروڑ 77 لاکھ نئی نوکریوں کی اکثریت کم تنخواہ اور کم پیداواری شعبوں میں ہے ۔رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ غربت کی شرح 2018-19 میں 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد ہو گئی ہے ۔ معاشی استحکام کے باوجود نوجوان کم کوالٹی کے روزگار سے وابستہ ہونے پر مجبور ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments